Tag: بجلی

  • وزیراعظم کا "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ

    وزیراعظم کا "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ

    وزیراعظم کا "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ


    ڈاکٹر رحمت  عزیز خان چترالی

    پاکستان میں بجلی کی تقسیم اور بلنگ کا نظام گزشتہ کئی دہائیوں سے مسائل کا شکار رہا ہے۔ تقسیم کار کمپنیاں  ماضی سے اب تک میٹر ریڈنگ کے لیے میٹر ریڈرز پر انحصار کرتی آئی ہیں۔ ان میٹر ریڈرز کا کام صارفین کے گھروں، دفاتر یا اداروں میں لگے میٹروں سے بجلی کی استعمال شدہ مقدار کو پڑھ کر رپورٹ کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمل اکثر تصاویر کے ذریعے ہوتا رہا، مگر اس میں انسانی غلطی، بدنیتی، رشوت ستانی اور اوور بلنگ جیسے مسائل جنم لیتے رہے۔

    اوور بلنگ، اندازاً بل بھیجنے اور صارفین کی شکایات نے میٹر ریڈرز کے نظام پر سوالات کھڑے کیے۔ متعدد مواقع پر صارفین نے مظاہرے کیے، عدالتوں سے رجوع کیا اور عوامی سطح پر بجلی کے بلوں کو ’ڈاکا‘ قرار دیا۔ ایسے حالات میں یہ واضح تھا کہ بلنگ کے نظام میں شفافیت، خودکاریت اور اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اہم اور دیرینہ مسئلے کو جدید حل فراہم کرتے ہوئے "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” کے نام سے ایک ڈیجیٹل ایپ کے آغاز کی منظوری دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد میٹر ریڈرز کے کردار کو ختم کر کے بجلی کے بلنگ نظام کو شفاف اور خودکار بنانا ہے۔ یہ ایپ نہ صرف صارفین کو اپنی بجلی کی ریڈنگ خود اپ لوڈ کرنے کی سہولت دے گی بلکہ انہیں اس عمل میں شریک بنائے گی، جو کہ صارف اور ریاست کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دے گا۔

    یہ نظام ابتدائی طور پر کراچی الیکٹرک (K-Electric) کے دائرہ اختیار سے باہر پورے پاکستان میں متعارف کرایا جائے گا، کیونکہ کے الیکٹرک کی پالیسی اور ساخت وفاقی ڈسکوز سے مختلف ہے۔

    وزیراعظم کا "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ

    وزیر اعظم نے پاور ڈویژن کو ہدایت دی ہے کہ یہ ایپ قومی زبان اردو کے ساتھ ساتھ چار علاقائی زبانوں،  پنجابی، سندھی، پشتو اور بلوچی   میں دستیاب ہو تاکہ ہر طبقے کا شہری اس کا استعمال کر سکے۔ اس فیصلے سے حکومت نے ڈیجیٹل شمولیت (Digital Inclusion) کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، جو کسی بھی قومی ڈیجیٹل پالیسی کے لیے ایک ناگزیر شرط ہے۔

    ایپ کا سافٹ لانچ اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے تاکہ تکنیکی خامیوں کو عوامی سطح پر مکمل اجراء سے پہلے دور کیا جا سکے۔ یہ ایک دانشمندانہ قدم ہے، کیونکہ پاکستان میں بیشتر ڈیجیٹل منصوبے بروقت جانچ کے بغیر لاگو کیے جانے کی وجہ سے ناکامی کا شکار ہوئے۔

    حکومت نے صارفین کو اس نظام سے روشناس کرانے کے لیے وزارت اطلاعات و نشریات کے اشتراک سے ایک جامع میڈیا مہم کی منظوری دی ہے۔ اس مہم پر 31 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جو ایک خطیر رقم ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر پاکستانی شہری نہ صرف اس ایپ کے بارے میں آگاہ ہو، بلکہ اس کے فوائد سے بھی واقف ہو جائے۔

    اس ایپ کے ذریعے اوور بلنگ کا سلسلہ محدود ہو جائے گا کیونکہ صارف خود ریڈنگ اپلوڈ کرے گا۔ میٹر ریڈرز کی رشوت خوری، جعلسازی اور من مانی ختم ہو گی۔ لاقائی زبانوں کی شمولیت حکومت کی جمہوری سوچ کی عکاس ہے۔ طویل مدت میں میٹر ریڈرز کی تنخواہوں اور بدعنوانیوں سے نجات بجٹ پر مثبت اثر ڈالے گی۔

    پاکستان میں اب بھی دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور ایپس کے استعمال کی صلاحیت محدود ہے۔ بزرگ شہری، ناخواندہ یا غیر تکنیکی صارفین کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔خود ریڈنگ کی اجازت بعض صارفین کو چالاکی کی راہ دکھا سکتی ہے۔ اس لیے نگرانی اور ڈیجیٹل ویلیڈیشن کی مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہو گی۔ ایپ کے ذریعے صارفین کے گھریلو ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گی۔ اگر یہ ڈیٹا غیر محفوظ رہا تو سائبر خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔میٹر ریڈرز کی یونین یا ان کے حمایتی حلقے اس تبدیلی کی مزاحمت کر سکتے ہیں کیونکہ یہ ان کی ملازمتوں پر اثر انداز ہو گا۔ اس لیے مرحلہ وار اور شفاف عمل ناگزیر ہے۔

    یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل گورننس کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اگر اس نظام کو مؤثر تربیت، عوامی شمولیت، اور تکنیکی فعالیت کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ پاکستان کے بجلی کے شعبے میں ایک انقلاب لا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو استعمال کی تربیت دی جائے۔ ایپ کا بیک اپ سسٹم موجود ہو۔ غلط ریڈنگ کی صورت میں نظرثانی کا ایک آسان نظام قائم کیا جائے۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر (مثلاً، انٹرنیٹ کی رسائی) کو مستحکم بنایا جائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا "اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ” ایپ کا منصوبہ پاکستان میں ڈیجیٹل اصلاحات، شفافیت اور توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا مظہر ہے۔ یہ اقدام اگر درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو صرف بجلی کے بلوں ہی نہیں، بلکہ ریاست اور عوام کے باہمی اعتماد کے سفر میں بھی ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے حکمت، نگرانی، تربیت اور عوامی شمولیت لازم ہے۔ ورنہ یہ منصوبہ بھی محض ایک سیاسی اعلان بن کر فائلوں میں دب کر  رہ جائے گا۔

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

  • مفت بجلی کی فراہمی، ملک کی تباہی

    مفت بجلی کی فراہمی، ملک کی تباہی

    مفت بجلی کی فراہمی، ملک کی تباہی

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    مملک خداداد پاکستان میں بعض اداروں کو مفت بجلی فراہم کرکے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا جارہا ہے جو کہ غربت اور مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ وزارت توانائی کے تحت پبلک اور کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین کو سالانہ اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کیے جانے کا انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان کی معیشت سنگین بحرانوں کا شکار ہے۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق دو لاکھ ملازمین کو 44 کروڑ 15 لاکھ یونٹ سالانہ مفت بجلی فراہم کی گئی  جس میں حاضر سروس ملازمین کو 30 کروڑ 82 لاکھ اور ریٹائرڈ ملازمین کو 13 کروڑ 32 لاکھ یونٹس دیے گئے۔

    پاکستان میں توانائی کے شعبے کا آغاز قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہوا تھا۔ واپڈا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی) 1958 میں قائم کی گئی تاکہ ملک میں پانی اور بجلی کے وسائل کو ترقی دی جا سکے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر یہ ادارہ قومی ترقی میں ایک اہم ستون کے طور پر ابھرا  لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انتظامی نااہلی، بدعنوانی ور غیر ضروری مراعات کے باعث یہ ادارہ مالی مسائل کا شکار ہو گیا۔

    توانائی کے شعبے میں ملازمین کو مفت بجلی فراہم کرنے کی روایت کئی دہائیوں پرانی ہے جس سے عام آدمی پر مہنگی بجلی کا بوجھ پڑا۔ یہ مراعات ابتدا میں محدود پیمانے پر دی جاتی تھیں  لیکن وقت کے ساتھ ان کا دائرہ کار بڑھتا چلا گیا۔ 2023 کی رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر سب سے زیادہ بجلی کا استعمال ہوتا ہے اور دفاتر میں ایئر کنڈیشنرز اور دیگر آلات کا غیر ضروری استعمال عام ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ توانائی کے وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی موجود نہیں۔

    پاکستان اس وقت مہنگی بجلی پیدا کر رہا ہے  اور اس کا بوجھ عام صارفین پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ کم آمدنی والے افراد اور متوسط طبقے کے لیے بجلی کے بھاری بل ادا کرنا ایک مشکل امر بن چکا ہے۔ اس کے برعکس  توانائی کے شعبے کے ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی معاشی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے قابلِ مذمت اور غریب آدمی کے ساتھ  امتیازی  سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔

    پاور سیکٹر کے گردشی قرضے ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ گردشی قرضے وہ رقم ہے جو حکومت کو بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے لیے ادا کرنی ہوتی ہے لیکن یہ صارفین سے وصول نہیں کی جا سکتی۔ اس کے اسباب میں بجلی چوری، لائن لاسز  اور مفت بجلی کی فراہمی شامل ہیں۔

    پاکستان میں بجلی چوری ایک خطرناک  مسئلہ کے طور پر ہمارے سامنے ہے  جو لاکھوں روپے سے بڑھ کر اربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ماضی میں  اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے متعدد منصوبے بنائے گئے لیکن یہ منصوبے  زیادہ تر ناکام رہے۔ بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ عام صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔

    توانائی کے شعبے کے ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی معاشرتی ناہمواری کو فروغ دیتی ہے۔ ایک طرف  غریب عوام کی اکثریت مہنگی بجلی کے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں  تو دوسری طرف مخصوص طبقے کو بلا معاوضہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال معاشرتی تقسیم کو بڑھا رہی ہے اور عوام میں عدم اطمینان پیدا کر رہی ہے۔

    پاکستان کو توانائی کے شعبے میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ توانائی کے شعبے کے ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی بند کی جائے اور ان سے بھی عام صارفین کی طرح بل وصول کیا جائے۔بجلی چوری کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔گردشی قرضوں کو کم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے  جس میں بجلی کی قیمتوں کا تعین حقیقی بنیادوں پر کیا جائے۔عوام میں بجلی کے ضیاع کے حوالے سے شعور بیدار کیا جائے اور توانائی کے مؤثر استعمال کی ترغیب دی جائے۔

    توانائی کے شعبے میں مفت بجلی کی فراہمی اور دیگر مراعات کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف ملکی معیشت پر بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ عوام میں بے چینی اور عدم مساوات کو بھی فروغ دے رہا ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے واپڈا کے نظام میں  اصلاحات نافذ کریں تو یہ ممکن ہے کہ توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم کیا جا سکے گا  اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔

    Title Image by Susana Cipriano from Pixabay

  • بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی


    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    پاکستان  میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل ملک  کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ بجلی چوری، واجبات کی عدم وصولی اور بدعنوانیوں کے مختلف پہلو ملک کی معاشی مشکلات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں لیکن سیاسی اور بیوروکریٹک مزاحمت کی وجہ سے یہ اصلاحات اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں جوکہ غربت کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر  ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔

    پاکستان میں بجلی کی تقسیم کا نظام ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے۔ 1990 کی دہائی میں بجلی کی نجکاری کے تحت تقسیم کار کمپنیوں کا شعبہ  قائم کیا گیا تاکہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم  ان کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، غیر پیشہ ورانہ رویے  اور بدعنوانی نے اس نظام کو مزید کمزور کر دیا۔ بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل نے ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔

    وفاقی حکومت نے چھ ماہ قبل ایک مؤثر حکمت عملی تیار کی جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں  میں اصلاحات لانا تھا۔ اس حکمت عملی کے تحت ملتان اور سکھر سے آغاز کرتے ہوئے انٹیلی جنس، انویسٹی گیشن  اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو تعینات کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد بدعنوانی کو ختم کرنا اور واجبات کی وصولی کو یقینی بنانا تھا۔ لاہور اور کوئٹہ میں بھی اس حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے  لیکن سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) میں اس فیصلے کے نفاذ میں بڑی رکاوٹیں درپیش رہیں۔

    سیپکو کے حوالے سے وفاقی حکومت کو طویل سیاسی اور غیر سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم  حالیہ دنوں میں حکومت نے سکھر میں بھی اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ایک جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سیپکو کے سی ای او اور سول آرمڈ فورسز کے سیکٹر کمانڈر کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)  اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے افسران کو ڈی ایس یو کے ممبران کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

    ملتان اور لاہور میں اس حکمت عملی کے تحت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ واجبات کی وصولی میں بہتری، بجلی چوری کی روک تھام  اور بدعنوانی کے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ کوئٹہ میں بھی اس اقدام کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے ہیں۔ ان کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکھر میں بھی ان اصلاحات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بجلی کے نظام کی درستگی اور معیشت کی بہتری کے لیے وفاقی حکومت کی کوششیں قابل ستائش ہیں  لیکن یہ مسئلہ صرف وفاقی سطح پر حل نہیں ہو سکتا۔ سندھ کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بدعنوانی ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی اقدامات کی حمایت کرے اور ان کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

    سیاسی اثر و رسوخ کے باعث اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں غیر جانبدارانہ رویہ اپنائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔

    بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت قوانین اور ان کے مؤثر نفاذ کی ضرورت ہے۔ احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ میڈیا اور سماجی تنظیموں کے ذریعے عوام کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ یہ مسائل قومی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    بجلی کی تقسیم کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے چوری اور دیگر مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسمارٹ میٹرز اور خودکار نظام کے ذریعے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بدعنوانی کے مسائل پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت کی حالیہ کوششیں اصلاحات کی جانب ایک مثبت قدم ہیں لیکن ان کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی اور بیوروکریٹک مزاحمت کو ختم کرنا ہوگا۔ صوبائی حکومتوں اور عوام کا تعاون بھی ان مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر ان اصلاحات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف بجلی کے نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کرے گا۔

  • میاں صاحب، لندن کی طرز پر چابی والی بجلی دلوائیں

    میاں صاحب، لندن کی طرز پر چابی والی بجلی دلوائیں

    میاں صاحب، لندن کی طرز پر چابی والی بجلی دلوائیں

    Dubai Naama

    سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے چند روز پہلے پنجاب کی عوام پر ایک بڑا احسان کیا۔ انہوں نے پنجاب کی وزیراعلی اور اپنی بیٹی مریم نواز شریف کے ساتھ مل کر ایک پریس کانفرنس کی اور اعلان کیا کہ 500 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 14 روپے فی یونٹ کا ریلیف ملے گا۔ اس اعلان کے مطابق یہ ریلیف بنیادی طور پر 2ماہ کے لیئے ہے جسے اگست اور ستمبر کے بلوں میں شامل کیا جائے گا جس کے بعد بجلی کا فی یونٹ دوبارہ اسی قیمت پر چلا جائے گا جس پر ابھی چارج کیا جا رہا ہے۔

    اس موقع پر احقر سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے گزارش کرنا چاہتا ہے کہ پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں کی عوام پر اپنے بھائی اور وزیراعظم میاں شہباز شریف پر دباؤ ڈال کر ایک اور احسان کریں کہ ملک بھر میں 500ارب روپے کی جو سالانہ بجلی چوری ہوتی ہے وہ اسے بھی رکوانے کی کوشش کریں۔

    اخباری اطلاعات کے مطابق 500ارب روپے کی بجلی کی یہ چوری بلوں میں ہیراپھیری کر کے کی جاتی ہے۔ حالانکہ آئی پی پیز، واپڈا ملازمین، میٹر انسپکٹرز اور میٹر ریڈرز وغیرہ کی ملی بھگت سے بجلی کی جو سالانہ چوری ہوتی ہے وہ اندازا 1000ارب روپے سے بھی کئی گنا زیادہ ہو گی۔ کیونکہ خود محکمہ واپڈا بھی جانتا ہے کہ لوگ اس کے عملے سے مل کر کس طرح بجلی کے بلوں میں کمی کرتے ہیں، کیسے براہ راست تاریں لگا کر بجلی چوری کی جاتی ہے اور کس طریقے سے میٹر ریڈنگ کو کم کرنے کے لیئے میٹر کو "ریورس” چلایا جاتا ہے۔

    عوام اور بجلی کے صارفین کے اندر بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کی وجہ سے پائی جانے والی بے چینی کو جس طرح مسلم لیگ نون کے بانی و قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے محسوس کیا ہے اور اس کے تدارک کا ابتدائی قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ یہ پنجاب کی عوام کے لیئے کشمیر میں دیئے گئے بجلی ریلیف کی طرح یقینا ایک تاریخی اور عوام دوست بجلی پیکیج ہے۔ 500 یونٹ تک بنیادی ٹیرف ریٹ 37 سے 38 روپے فی یونٹ ہے۔ 14روپے ریلیف ملنے کے بعد یہ 24 روپے کا ہو جائے گا۔ یوں یہ ریلیف بجلی کے بلوں میں کمی لانے کے لیئے ایک بہت اچھا آغاز ہے کیونکہ بجلی سستی ہونے سے مہنگائی میں بھی کمی آئے گی۔ مسلم لیگ نون کے قائد محمد نواز شریف کا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی بجلی کی قیمتوں میں کمی کے اقدامات کریں گے۔ اس پریس کانفرنس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس ریلیف پیکیج کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے دیرپا حل کیلئے کام ہو رہا ہے اور جلد عوام کو خوشخبری دی جائے گی۔

    میاں صاحب، لندن کی طرز پر چابی والی بجلی دلوائیں

    اس بات کو مد نظر رکھنا چایئے کہ بھاری بلوں میں بالواسطہ ٹیکسوں اور آئی پی پیز معاہدوں کی جڑیں پیوست ہیں جن کو کاٹے بغیر بجلی کے بلوں میں مستقل کمی کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا ہے اور اسی وجہ سے یہ بجلی پیکیج بھی ابھی صرف 2ماہ کے لیئے دیا جائے گا۔

    توانائی حکام کے مطابق صرف 85گھنٹے چلنے والے آئی پی پیز کو 49ارب روپے ادا کئے جاتے ہیں۔ بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو سالانہ 15ارب روپے کی مفت بجلی دی جاتی ہے۔ جبکہ وفاقی اور صوبائی وزراء، مشیران اور بیوروکریسی کے سیکٹریوں اور دیگر بڑے افسران وغیرہ کو جو اربوں روپے کی مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔ بجلی کی فراہمی میں اوپر بیان کئے گئے خرد برد اور بجلی کی اس طرح مفت فراہمی کی وجہ سے اور بجلی کے نظام کو چالو رکھنے کے اخراجات کو کوور کرنے کے لیئے ہر نئی آنے والی حکومت کو بجلی کے نرخوں میں مجبورا اضافہ کرنا پڑتا ہے۔

    بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بجلی کے بل گھروں کے کرایوں سے زیادہ ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان کی متوسط اور غریب عوام پر بہت بڑا ظلم ہے جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے۔میاں محمد نواز شریف نے پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ مریم نواز کو شاباش تو دی اور کہا کہ یہ ریلیف یہیں ختم نہیں ہو گا بلکہ 700ارب روپے سے پنجاب میں گھروں کو سولر پینل دیں گے۔ انہوں نے اپنے دور حکومت میں مہنگائی اور بجلی کے بلوں کا آج سے موازنہ کیا اور کہا تھا کہ انہیں اقتدار سے الگ نہ کیا جاتا اور ترقی کا یہ سفر جاری رہتا تو آج ہم "ایشین ٹائیگر” ہوتے۔

    لیکن یہ بات نہیں بھولنی چایئے کہ جب تک کسی ملک میں مختلف محکمہ جات کو چلانے کے لیئے "فول پروف” نظام نہیں دیا جاتا ہے یا اس طرز کی چوری اور کرپشن ختم نہیں کی جاتی ہے اس ملک میں مہنگائی کم کی جا سکتی ہے اور نہ اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔

    انگلینڈ میں بجلی کے بلوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہاں بجلی کا ہر صارف بجلی خریدتا ہے۔ حکومت نے دکانداروں اور سٹورز کو بجلی کی چابی چارج کرنے کا لائسنس دے رکھا ہے۔ بجلی کے صارفین کے میٹر میں یو ایس بی نما ایک چابی لگی ہوتی ہے جسے ان دکانوں اور سٹورز سے چارج کروایا جاتا ہے۔ جونہی کسی گھر، دفتر یا دکان وغیرہ کی بجلی ختم ہوتی ہے ایک الارم بج جاتا ہے اور بجلی کے صارف کو پتہ چل جاتا ہے کہ بجلی ختم ہو گئی ہے۔ اس موقع پر بجلی کٹتی نہیں بلکہ 5پونڈ کی ایڈوانس بجلی میٹر میں چلی جاتی ہے۔ وہاں بجلی کے صارفین فورا میٹر سے چابی نکالتے ہیں اور جتنی ضرورت ہو وہ چابی میں کسی بجلی فروخت پوانئٹ پر جا کر مزید بجلی بھروا لیتے ہیں اور جونہی وہ بجلی والی چابی دوبارہ میٹر میں ڈالتے ہیں ایڈوانس لیئے گئے 5پونڈ چابی سے منہا ہو جاتے ہیں۔

    میاں محمد نواز شریف صاحب کافی عرصہ انگلینڈ رہے ہیں۔ ان کا سنٹرل لندن پارک لائن میں ایک گھر بھی ہے جہاں وہ اور ان کے بچے یہی چابی والی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ایک دفعہ ان کے اس گھر میں مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا تھا کہ جب گھر میں بجلی ختم ہونے کا الارم بجا تھا تو ان کا ایک منیجر نیچے چابی میں بجلی بھروانے جا رہا تھا۔ یہ بجلی کی فراہمی اور بجلی کے بلوں کی جگہ ایک جدید نظام ہے جسے پاکستان میں متعارف کروایا جائے تو بجلی کی چوری اور ہیرا پھیری کا یہ جھنجھڑ مستقل طور پر ختم ہو جائے گا۔

    محترم المقام میاں نواز شریف صاحب، اگر آپ اس تجویز پر عمل کروا لیں تو جہاں بجلی کی چوری ختم ہو جائے گی اور حکومت کو 9ہزار ارب روپے کی بجائے محصولات کی وصولی دگنا ہو جائے گی وہاں نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبوں اور پورے پاکستان کو سستی بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہو جائے گی، پھر بجلی کے پاور پلانٹس کو کوئلے سے چلانے کے لیئے چین سے معاہدہ بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی "چوری” اور "کرپشن” ہے۔ میاں صاحب! آپ سے التجا ہے یہ "چابی والی بجلی” پاکستان میں چالو کروائیں۔ اس بجلی ریلیف کے علاوہ قوم پر یہ آپ کا ایک اور احسان ہو گا۔

  • مہنگی بجلی بلوں کی سزا موت کیوں؟

    مہنگی بجلی بلوں کی سزا موت کیوں؟

    مہنگی بجلی بلوں کی سزا موت کیوں؟

    Dubai Naama

مہنگی بجلی بلوں کی سزا موت کیوں؟

    جس روز گوجرانوالہ میں 30ہزار روپے بجلی کے بل پر ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کیا تھا اسی دوران ایک خبر کے مطابق آئی پی پیز کو بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے کوئی بھی بدعنوانی چھپی نہیں رہ سکتی۔ بجلی نہ بنا کر بھی کیپسٹی چارجز کی مد میں سالانہ 1900 ارب روپے سے زیادہ جگا ٹیکس کی شکل میں عوام کے بلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔

    جو نام نہاد کاروباری گروپس اس سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں ان میں (نشاط پاور/ ایم سی بی بنک)، (نشاط پاور/ ایم سی بی بنک)، (جے ڈی ڈبلیو گروپ)، (چنیوٹ پاور)، (سیف پاور گروپ)، (سیف پاور پراجیکٹ)، (اورینٹ پاور کمپنی) اور (اینگرو پاور پراجیکٹ/ داؤد ہرکولیس گروپ شامل ہیں جن کی نون لیگ، پیپلزپارٹی، قاف لیگ اور پی ٹی آئی وغیرہ سے سیاسی وابستگیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ یہ ایسا کاروبار ہے کہ جس کے ذریعے عالمی کباڑ خانے سے (جس میں چین سرفہرست ہے) ایک ناکارہ پاور پلانٹ خرید کر لگا لیں اور پھر اسے بند رکھ کر آپ کی 7 نسلیں گھر بیٹھ کر کھا سکتی ہیں۔ آئی پی پیز سے پہلا معاہدہ محترمہ بینظیر بھٹو نے سنہ 1996ء میں کیا تھا جبکہ آخری کئے گئے معاہدے کی مدت 2050 تک ہے اور اس میں کسی طرح کی بھی نظرثانی یا معاہدہ ختم نا کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہی آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں ادائیگی عوام کو مہنگی بجلی بیچ کر قتل و غارت اور خودکشیوں کی صورت میں بھگتنا پڑ رہی ہے۔

    نیپرا کی ویب سائٹ کے مطابق تمام معاہدے 1997 میں کئے گئے۔ بے نظیر بھٹو کی پالیسی کی بناء پر 1994 میں لائسنس جاری کئے گئے لیکن یہ لائسنس چلنے نہیں دئیے گئے تھے۔ 14 پروجیکٹس فارن انویسٹمنٹ سے لگائے گئے تھے اور 14 کی ہی ضرورت تھی۔ سب کو بند کر دیا اور 1997ء میں سب فارن انویسٹر بھاگ گئے۔ سب پروجیکٹس اونے پونے خرید لیئے گئے۔ سنہ 1997ء سے 2007ء اور پھر 2017ء میں ان معاہدوں کو ایکسٹینڈ کیا گیا۔ اگر یہ معاہدے بے نظیر بھٹو نے اپنے کاروباری مفاد کے لیئے کیئے تھے تو پھر سابق صدر آصف علی زرداری کو 2008 سے 2013 تک اڑھائی روپے فی یونٹ کے بجائے بجلی مہنگی بیچنا چاہیے تھی مگر وہ سستی بجلی بیچتے رہے تھے۔

    پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی اس انتقامی و سیاسی کشمکش اور ان معاہدوں کے اجراء اور تنسیخ کے بدلے عوام کو مہنگی بجلی بیچنے کے ذریعے کتنا نقصان پہنچایا گیا اس کا اندازہ ان اخباری خبروں اور اشتہارات سے لگایا جا سکتا ہے جو نون لیگ نے چھپوائے: "معاہدے کرنیوالوں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کریں گے، "حب کو” کے دفتر پر چھاپہ، غیر ملکی عملے نے قونصل خانوں میں پناہ لے لی، حبکو سے بے نظیر دور کا ترمیمی معاہدہ منسوخ اور غیر ملکی کمپنیوں سے بجلی کے تمام معاہدے منسوخ کرنے کا فیصلہ وغیرہ وغیرہ۔”

    بجلی کی طلب 22 ہزار میگا واٹ ہے مگر 43 ہزار میگا واٹ کے پلانٹ لگائے گئے۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے ہماری 60 سے 70 ملیں بند پڑی ہیں۔ بجلی کی موجودہ قیمت اتنی مہنگی ہے کہ اس پر کاروبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ‏کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں پیسے لینے والے آئی پی پیز کی جو اوپر فہرست شئیر کی ہے وہ صرف گزشتہ تین ماہ کی ہے۔ ان 3ماہ میں ابھی تک آئی پی پیز کو 450 ارب روپے ادا کئے گئے ہیں۔ ان گروپس میں کبیر والا پاور پلانٹ بھی شامل ہے جسے اطالاعات کے مطابق 3 ماہ میں 56 کروڑ سے زائد کی ادائیگی ہوئی ہے لیکن اس کی کپیسٹی صفر ہے۔

    اس طرح دیکھا جائے تو مہنگی بجلی کی بنیادی وجہ یہی آئ پی پیز گروپس ہیں جن کو اپنے "کمیشن بیسڈ” کاروباری مفادات کے لیئے حکومت سپانسر کرتی رہی ہے جس کا ہمیشہ دعوی یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کی خدمت کے لیئے برسراقتدار آئی ہے۔

    جب تک عوام کو اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کا شعور حاصل نہیں ہوتا اس کے ساتھ یہ سلوک جاری رہے گا۔ جمہوریت اسی ملک میں خیر خواہی پر مبنی نظام حکومت ہے جہاں کی عوام سیاسی شعور رکھتی ہو۔ ہمارے ہاں عوامی نمائندوں کی اکثریت عوام کے ووٹ کو ان کے خلاف استعمال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے مقابلے میں ملک میں تین بار مارشل لاء لگا اور تینوں بار عوام نے اس کا خیر مقدم کیا۔

    جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے تو اسے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنا ہو گا ورنہ جمہوریت آمریت سے بدتر نظام حکومت ہے۔ ہمارے ہاں گزشتہ 40 سال سے اس کا عملی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اس جدید دور میں بھی ہماری عوام یہ جمہوری دھوکہ کھا رہی ہے اور بجلی کے یہ مہنگے بل موت کی سزا بن ٹوٹ رہے ہیں۔ عوام حکومت کے خلاف اس مد میں احتجاج کرنے کی بجائے انہیں برداشت کر رہی ہے۔ قصور حکومت کا ہے مگر سزا عوام بھگت رہی ہے۔ زہے نصیب!

    Title Image by Muhammad Abdullah from Pixabay

  • سوچو ذرا۔۔۔!

    سوچو ذرا۔۔۔!

    سوچو ذرا۔۔۔!

    محمد فاروق خان
    بجلی کے بلوں نے یکدم اپ کو مشتعل کر دیا ہے اور آپ بجلی کے بلوں کو جلانے کے فوٹو سیشن کے مرحلے سے بھی أگے بڑھ کر بل نہ جمع کرانے کم منزل پہ پہنچنے کی جستجو میں ہیں۔آپ کی خواہش ہے کہ بجلی کے مفت خورو ں سے سہولت واپس لے لی جاۓ۔اپ چاہتے ہیں کہ بجلی کے بل کم کر دیے جائیں۔اپ کسی تحریک کا حصہ بن کر اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیۓ بے چین ہیں۔اپ سوشل میڈیا پر انقلابی پوسٹ شیئر کر رہے ہیں۔اپ نگرانوں کے ہنی مون پیریڈ کو ہنگامہ خیز بنانے کا ارادہ کر چکے ہیں اور ان سے مہنگائ اور بجلی کے بلوں میں اضافےکی صورت میں کیۓ جانے والے غیر مقبول فیصلوں کو بدلوانا چاہتے ہیں۔اپ سوچتے ہیں کہ بجلی کے بل آمدن سے زیادہ نہ ہوں۔
    صاحبو۔۔۔! اپ کا غصہ اور برہمی اپنی جگہ لیکن یہ بھی تو سوچو کہ بجلی کے زیادہ بلوں کی وجہ سے اپ فوری طور پر متبادل توانائی کے حصول کا سو چنے لگے ۔ہو سکتا ہے آپ کئی سال سولر انرجی کی افادیت پر نہ تو غور کر تے اور نہ ہی شفٹ ہوتےسوچیں متبال توانائ کو قومی سطح پر سپورٹ کرنے اور توانائ کے بحران پر قابو پانے میں تاریخ میں اپ کا کیا کردار بننے جا رہا ہے جس پرائیندہ نسلیں فخر کر سکیں گیں ۔آپ کے ساتھ ایک بھلائی یہ بھی کی گئ کہ اپ اپنے اخراجات پورا کرنے اور اپنی امدن بڑ ھانے سے مجرمانہ طور پر غافل تھےجس کی وجہ سے اپ بجلی کے بلوں میں اضافے کو ظلم قرار دے رہے ہیں اب جب اپ کے سامنے بجلی کے بلوں کو جمع کرانے کا ٹارگٹ ہوگا تو اپ سستی چھوڑیں گے زیادہ محنت کرکے اپنی امدن میں اضافہ کر لیں گے جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ بجلی کے بلوں سے خوف زدہ نہیں یوں گے۔ پہلے مہینے شاید اپ بجلی کا بل جمع کرانے میں مشکل محسوس کریں لیکن آگےچل کر آپ ایسا نہیں سوچیں گے۔

    سوچو ذرا۔۔۔!
    Image by Nicole Köhler from Pixabay

    آپ فہم و دانش کے مالک ہیں اپ بخوبی جانتے ہیں کہ ملک ٹیکس پر اگے بڑھتے ہیں ٹیکس بڑھے گا تو تمھارا ملک بھی آگے بڑھے گا۔آپ کو اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا کی اسلامی ملک ہونے کے ناطے ہم پر قرض کی ادائیگی کی کتنی بڑی ذمہ داری ہے ہم نے قرض غیر مسلموں سے لے رکھا ہے وہ ہمارے عملی کردار کے متعلق کیا سوچیں گے اس سلسلے میں مذہبی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوے اس بل کو جمع کرا کر ائندہ بجلی کے بلوں میں اضافے کو بخوشی قبول کرنے کی ہمت کریں۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے ماں کب اپنی اولاد کو تکلیف دے سکتی ہے یہ سب تمھاری بھلائی کے لئے کیا جا ریا ہے ہو سکتا ہے کہ کوئ تمہیں بجلی کے بلوں کی وجہ سےتمھاری ماں سے بد گمان کر رہا ہو تو تمھیں سمجھداری کا ثبوت دینا ہوگا۔ موٹر وے کے ٹیکس کو بھی کچھ لوگ ہوا دے رہے ہیں سوچنا ہو گا کہ اس سے ہمیں کتنی سفری سہولتیں میسر ہوئ ہیں حکومت ایسی ہی سہولتوں میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور نئی موٹر ویز تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے اپ بڑا سوچیں اس خوشحالی اور ترقی پر غور کریں جو مستقبل قریب میں اپ کا مقدر ہونے والی ہے۔ اپ کس قدر خوش قسمت ہیں کہ صاف و شفاف ہوا اپ کو مفت میسر ہے۔اپ مفت پیدل سفر کرتے پھرتے ہیں ۔سورج اپنی روشنی مفت دینے پر متعین ہے۔اس ملک و قوم کو بے وقوف بنا کر ورغلانے والے شاید زیادہ ہو رہے ہیں اس لئے شاید یہ بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
    خدمت کے اس سفر سے ابھی بد گمان نہ ہونا۔۔۔
    ابھی سول نا فرمانی کی طرف نہ بڑھنا۔۔۔
    ابھی رقص جنون شروع نہ کرنا۔ کوئ اعتبار جودے رہا ہے۔۔۔
    کہ میں اوں گا اور بدل کے رکھ دوں گا۔