Tag: بارش

  • یواے ای حکومت کا دبئی کے سیلاب سے پہلے کلاؤڈ سیڈنگ سے لاتعلقی کا اعلان

    یواے ای حکومت کا دبئی کے سیلاب سے پہلے کلاؤڈ سیڈنگ سے لاتعلقی کا اعلان

    یواے ای حکومت کا دبئی کے سیلاب سے پہلے کلاؤڈ سیڈنگ سے لاتعلقی کا اعلان

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
    (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)
    rachitrali@gmail.com

    اخباری اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) ان دنوں غیر معمولی بارشوں کے نتیجے میں کافی مشکلات کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں خطرناک حد تک سیلاب آ گیا ہے۔ سیلاب اور طوفانی بارشوں کے بعد کے حالات انتہائی مشکل ہوگئے ہیں۔ موسم کے ان شدید واقعات کو بڑھانے یا کم کرنے میں کلاؤڈ سیڈنگ کے کردار کے حوالے سے مختلف سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM)، جو کہ متحدہ عرب امارات میں موسمیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کا ذمہ دار ہے نے خود کو ان مباحثوں اور تنقید کی زد میں پایا ہے۔
    بے شمار اخباری رپورٹس منظر عام پر آئی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں آنے والے تیز بارشوں اور طوفانوں سے قبل ایک سرکاری ٹاسک فورس کلاؤڈ سیڈنگ مشن میں مصروف تھی۔ تاہم این سی ایم کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل عمر علی یزیدی نے فوری طور پر ان دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ طوفانوں کے دوران یا اس سے پہلے کوئی کلاؤڈ سیڈنگ آپریشن نہیں کیا گیا تھا۔ عمر یزیدی کے مطابق کلاؤڈ سیڈنگ کے بنیادی اصول متوقع بارش سے پہلے ہی بادلوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طوفان یا اس کے آغاز کے دوران اس طرح کی کارروائیاں کرنا بادل کی نشوونما کے جدید مرحلے کی وجہ سے بیکار ہوجاتا ہے۔
    یہ تردید موسمیات کے ماہر احمد حبیب کے پہلے دعووں کی تصدیق کرتی ہے، جنہوں نے ابتدائی طور پر شدید بارشوں کو انسانی مداخلت کے بجائے قدرتی بادلوں کی حرکیات سے منسوب کیا ہے۔ حبیب نے بعد میں واضح کیا کہ جب چھ پائلٹوں کو طے شدہ پروٹوکول کے تحت بھیجا گیا تھا تو اس مشن کے دوران کلاؤڈ سیڈنگ کی سرگرمیاں نہیں کی گئیں تھیں بلکہ روک دی گئیں تھیں۔


    بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے بعد کلاؤڈ سیڈنگ کے بارے میں شکوک و شبہات نے زور پکڑا ہے جہاں حبیب نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ منگل کو ہونے والی بارش مصنوعی ہیرا پھیری کے بجائے کلاؤڈ بویانسی کا نتیجہ تھی۔ حبیب کی پیش گوئی ماحول کے حالات اور مقامی موسمی مظاہر کے درمیان پیچیدہ تعامل کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بادل کی بیجائی ہمیشہ موسم کے موجودہ نمونوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔
    متحدہ عرب امارات کی آب و ہوا کے وسیع فریم ورک کے اندر اس گفتگو کو سیاق و سباق کے مطابق پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ ملک میں عام طور پر 140 سے 200 ملی میٹر تک سالانہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ سیلاب کی وجہ سے العین میں 250 ملی میٹر اور دبئی میں 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کیا گیا ہے۔
    کلاؤڈ سیڈنگ سے متعلق تنازعہ موسم میں تبدیلی کے چیلنجوں اور موسمیاتی مداخلتوں میں شفافیت کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ جیسا کہ یو اے ای غیر متوقع طوفانی بارشوں کے بعد طوفانوں کا سامنا کیا ہے، کلاؤڈ سیڈنگ پر گفتگو موسم سے متعلق خطرات کے انتظام کی پیچیدگیوں اور شواہد پر مبنی موسمیاتی طریقوں کی ضرورت پر روشنی ڈالتی ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے حالیہ سیلاب سے قبل کلاؤڈ سیڈنگ آپریشنز سے انکار قدرتی موسمی نمونوں کو متاثر کرنے میں انسانی مداخلت کے کردار کے بارے میں متعلقہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ جیسا کہ حالیہ طوفانی بارشوں کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اور ماہرین کو بھی جان بوجھ کر سنسنی خیز گفتگو سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ موسم کی تبدیلی کی پیچیدگیوں اور مستقبل کے موسمیاتی چیلنجوں کے بارے میں مزید جاننے کے لیے ہمیں سائنسی معلومات سے بھی فائدہ اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔

    Title Image by Venrike Artworks from Pixabay

  • اللہ زاری زاری اللہ ھُو

    اللہ زاری زاری اللہ ھُو

    اللہ زاری زاری اللہ ھُو

    ہمارے بچپن کی گرمیاں اس قدر شدید نہیں ہوا کرتی تھیں۔ تب درختوں اور سبزے کی بہتات تھی۔ تپش خارج کرتی گاڑیاں ، انجن نہ ہونے کے برابر تھے اور ائر کنڈیشنر تو تھے ہی نہیں۔ مکان، صحن اور گلیاں پختہ نہ تھیں لہذا جب بارشیں ہوتی تھیں تو پانی زمین میں جذب ہوجاتا تھا۔ جس کی وجہ سے حدت میں کمی واقع ہوتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ اگر کبھی گرمیوں میں کئی ہفتے بارش نہ ہوتی تو بچے بالے نیکریں پہنے ایک تھال یا ٹوکری اٹھائے گاؤں کی گلیوں میں “ اللہ زاری زاری اللہ ھُو “ پکارتے نکلتے اور ہر گھر کے دروازے پر جاتے تھے۔ گھروں والے انہیں گندم ، آٹا یا سکہ دیتے۔ دوپہر تک جمع ہونے والی اجناس کے بدلے گاؤں کی ہٹی (دکان) سے گُڑ لیا جاتا اور اس گُڑ سے شربت بنا کر کسی چورستے میں ہر آنے جانے والے کو پلایا جاتا تھا اور بارش کی دعا کی جاتی اور حیرت انگیز طور پر عصر کے وقت باران رحمت کا نزول ہوتا، بارش ہوتی اور کھل کر ہوتی، بادل برستے اور جم کر برستے تھے۔ چہار سو جل تھل ہوجایا کرتا تھا۔

    rain
    Image by irfanarif666 from Pixabay

    ہماری ثقافت کا یہ رنگ اب ماند پڑ گیا ہے۔ اس کا جدید ورژن میں نے دیکھا ہے ، سڑک کنارے یا چوک میں کھڑے نوجوان لوگوں کو روک روک پیسے لے رہے ہوتے ہیں لیکن اس میں وہ چاشنی اور خوبصورتی نہیں جو “ اللہ زاری زاری اللہ ھُو “ والے دور میں تھی۔ اس زمانے میں یہ دعا عاجزی اور یقین محکم کے ساتھ کی جاتی تھی۔ وہ زمانہ تھا بھی سادگی اور محبت کا، بے ایمانی اور منافقت مکمل جوان نہ ہوئیں تھیں کہیں تھیں بھی تو کم کم طفلانہ سی ، ذرائع مواصلات و نشر و اشاعت تھے نہیں اس لیے دعاؤں کی سیلفیاں بنتی نہیں تھیں تب افلاک سے نالوں کا جواب بھی جلد آجایا کرتا تھا۔

  • چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا زیارت بیلے جنڈ اٹک(ولادت 1503 ء -وفات 1604 ء)

     سر زمین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اولیاء کی درخشاں و تاباں ہستیاں نعمت کبریٰ سے کم نہیں ہیں ۔اولیاء اللہ نے انسان کو انسان سے محبت کا درس دیا ہے۔دکھی انسانیت آج پھر اُن جسے مقدس لوگوں کہ انتظار میں ہے کیوں کہ زمین سے عدل و انصاف اٹھتا جا رہا ہے اور ہم لوگ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔آج پھر کوئی اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ اٹھے ہماری ہوس پرستی کو ختم کرکے ہمارے دل و روح کو محبت سے بھر دے کیوں کہ اب وقت کا یہی تقاضا ہے۔ ماضی میں بھی جب اٹک کی سر زمین ظلم و جبر سے بھر گئی تھی تو حضرت سید عبدالوہاب بُخاریؒ نے اپنے مریدین کو ان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے بدلے میں ولایتِ کے مقام تک پہنچایا اور ظلم و ستم کی سرکوبی کے لیے اٹک کے مختلف علاقوں میں بھیجا ان میں ایک بزرگ حضرت رحمت اللہ بخاری ؒتھے۔

    مختصر تعارف

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا بخارا سے اُچ شریف آنے والے سادات کا فخر ہیں۔آپ کا سلسلہ نسب 26 ویں پشت میں جدّ ائمہ طاہرین اور جدّ اولیاء حضرت علی علیہ السّلام سے جا ملتا ہے۔آپ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے ساتھ ملحقہ گاؤں زیارت میں 1568 عیسوی میں اوچ شریف سے ہجرت کرکے آئے آپ کے والد حضرت احمد شاہؒ بڈھا المعروف زندہ پیر تھے آپ کی ولادت 1503 عیسوی میں ہوئی۔ جو کہ مشہور بادشاہ ابرہیم لودھی کا دور بنتا ہے آپ نے 1604 میں دنیا سے پردہ کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔آپ کی زندگی میں ابرہیم لودھی،ظہیر الدین بابر،نصیر الدین محمد ہمایوں،شیر شاہ سوری اور جلال الدین محمد اکبر بادشاہ گزرے۔آپ کے مرشد حضرت شاہ عبد وہاب ؒتھے آپ کا سلسلہ "بخاریہ” تھا مرشد کی بیعت میں مجاہدات و ریاضات میں 38 سال رھے اور سلسہ سہروردی میں بھی کمال حاصل کیا۔آپ حضرت بہاؤالدین کے مدرسے میں بھی پڑھاتے تھے جو کہ علم و حکمت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

    چھانگلا ولی موج دریا

    حضرت رحمت شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کے پاس ایک عورت آئی کہ میں بے اولاد ہوں اولادِ نرینہ کے لئے دعا کریں۔آپ نے فوراً دعا دی اور کہا کہ اگلے سال اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹا دے گا وہ عورت کہنے لگی کہ میں بہت سارے پیروں،فقیروں اور بزرگوں کے پاس دعا کے لئے گئی ہوں یہ کیسے پتا چلے گا کہ میرا پیدا ہونے والا بیٹا آپ کی دعا سے ہوا ہے آپ اس کی کوئی نشانی بتائیں آپ ؒ نے مسکرا کر کہا کہ اگر اس کے ہاتھوں کی چھ اُنگلیاں ہوئیں تو وہ میری دعا سےہو گا اگر اُس کی پانچ اُنگلیاں ہوں تو کسی اور بزرگ کی دعا سے ہو گا۔یہ سن کر وہ عورت چلی گئی اور ایک سال بعد اُس کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے سرفراز کیا۔جس کی چھ،چھ اُنگلیاں تھیں جس کی وجہ سے لوگ اس بچے کو چھ انگلا کہنے لگے اُس عورت نے لوگوں کو اس کی وجہ بتا دی تو لوگوں نے آپ کو چھ اُنگلا بچے کے دعا دینے والا ولی مشہور ہونے لگا چھ انگلا کہتے کہتے چھانگلا ولی مشہور ہو گئے۔آپ کو مرشد نے موج دریا کا لقب دیا آپ کے نام کی وجہ تسمیہ اس لیے چھانگلا ولی موج دریا بنی۔

    چھانگلا ولیؒ موج دریا
    موج دریا

    کرامات

    آپ کی مشہور کرامات یہ ہیں پرندوں سے ہمکلام ہونا،پتھروں کا بیڑا دریا سندھ میں چلانا،پیر نارا کے سر پر سینگ نکالنا جس کی نشانی اب بھی اُن کی نسل میں موجود ہے،ڈاکوؤں نے مذاق کیا زندہ آدمی کا جنازہ آپ سے پڑھوایا تو جنازہ مکمل ہونے کے بعد بندہ حقیقت میں مر چکا تھا۔جنات کو قرآن مجید پڑھانا،جادو گر بدھو کراڑ سے مقابلہ کرنا جادوگر بدھو کراڑ مقابلے کی غرض سے جب اپنے جادو کے بل بوتے پر ہوا میں اُڑا تو آپ کا اپنے جوتوں کو حکم دینا اور ہوا میں بدھو کراڑ کی پٹائی کر کے زمین پرگرانا اور جادو گر کا تائب ہونا۔ایسا ہی ایک جادوگر باغ نیلاب کے مقام پر تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ کے مرشد پیر عبدالوہاب بُخاری نے حضرت نوری سلطان کو بھیجا جس کا ذکر انگریز مورخ لیبل ایچ گرفن نے اپنی کتاب پنجاب چیفز کے صفحہ 563 پر کیا۔ تربوزوں کو پتھر بنانا ،بہت بڑے سانپ کو پتھر بنانا،آپ کے حکم عدولی پر لوگوں کےگھروں سے کیڑوں کا نکل انا اور جانوروں تک کا بھاگ جانا معافی مانگنے پر دوبارہ کیڑوں کا غائب ہو جانا۔اپنے اخلاق و کردار سے لاکھوں افراد کو کلمہ پڑھایا اور اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ حضرت چھانگلا ولیؒ موج دریا زیادہ تر فاقہ کی حالت میں رہتے تھے عبادت کے لیے کم سوتے تھے اور بحال قوت کے لیے دودھ پیتے تھے۔۔

    اقوال

    آپ کے اقوال اج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور سونے کے پانی لکھنے کے قابل ہیں وجود کی تاثیر نیت کے خلوصِ سے بنتی ہے۔معرفت والے انسان کا زیادہ کھانا اور سونا اُس کی طاقت پرواز کم کر دیتا ہے۔ نفس کو پھلینے دینا اولیاء کے نزدیک فقر کی موت ہے نفس امارہ ایسا شیطان ھے جو آدم علیہ السلام کے سجدے کی حقیت کو اج بھی جھٹلاتا ہے۔کھانا کھاؤ معرفت خدا کی ریاضت کے لیے اور دودھ پیو قوت بحالی کے لیے۔جنات تک اسلام پہنچانا بزرگان دین پر واجب ہے۔ بندوں کا خیال رکھنا بندوں کی مدد کرنا اور بندوں کو عاجزی سے ملنا مخفی بندگی۔ اج بھی لاکھوں افراد آپ کے دربار پر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر جاتے ہیں اور ان کی منتیں پوری ہوتی ہیں

    حوالہ تحریر روزنامہ اساس 27 دسمبر