موڈ – Mood
صفدر علی حیدری
” جانتی تھی ڈاکٹر صاحب کے آگے آپ کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلے گا – جبھی تو ساتھ گئی تھی ۔ آپ کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں میں ۔ آپ کی ایک ایک عادت ، آپ کے مزاج کا ایک ایک پہلو حتی کہ کس وقت آپ کیا سوچتے ہیں ، سب کچھ پوری تفصیل سے انہیں بتایا –
انھوں نے بھی تو متاثر ہو کر کہا
کہ ماہر نفسیات تو آپ کو ہونا چاہیے تھا ۔
موڈ بہتر کرنے والی دوائی آپ کو بالکل پہلے جیسا بنا دے گی ”
الفاظ اس کے ہونٹوں تک آتے آتے حرف حرف بکھر گئے
” تمھیں کب احساس ہو گا کہ موڈ دوائیوں سے نہیں بہتر رویوں سے بہتر ہوتا ہیں ” –