Tag: اتر پردیش

  • جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز

    جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز

    جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز

    2012ء اور 2013ء کا زمانہ تھا جب ہم شمس آباد، راولپنڈی کے ایک فلیٹ میں مقیم تھے۔ ہمارے ساتھ شورکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک دوست یاسر اقبال بھی رہائش پذیر تھے۔ اگرچہ یاسر کا مضمون انجینئرنگ تھا مگر ادب سے اس کا شغف غیر معمولی تھا۔ اکثر وہ ایک شعر پڑھا کرتا تھا:
    زندگی تیرے تعاقب میں ہم
    اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
    یہ شعر اس قدر دہرایا گیا کہ مجھے ازبر ہو گیا ہرچند اُس وقت تک شاعر کے نام سے واقفیت نہ تھی۔ شعر دل میں اتر گیا تھا نام بعد میں ملا۔ کچھ عرصے بعد یوٹیوب پر ریختہ کا ایک مشاعرہ سن رہا تھا۔ اسی مشاعرے میں پہلی مرتبہ طاہرؔ فراز کو سننے کا موقع ملا۔ جب ان کی غزل میں یہی شعر سماعت سے ٹکرایا تو گویا برسوں پرانی ایک یاد کو شناخت مل گئی۔
    ہندوستانی دوستوں کے ذریعے سے ان کا رابطہ نمبر حاصل ہوا۔ بات ہوئی تو طاہرؔ فراز نے نہایت شفقت اور خلوص سے خیریت دریافت کی۔ گفتگو میں ان کی شائستگی، ٹھہراؤ اور اپنائیت فوراً محسوس ہوئی۔ بعد ازاں کچھ ادبی اور شخصی معلومات بھی حاصل کیں۔ ارادہ تھا کہ ان پر ایک مفصل مضمون لکھوں گا۔ بدقسمتی سے موبائل کی خرابی کے باعث واٹس ایپ ڈیلیٹ ہو گیا اور تمام ریکارڈ ضائع ہو گیا۔ بعد میں دوبارہ ان سے چند چیزیں طلب کیں انھوں نے ارسال کرنے کا وعدہ بھی کیا تاہم ان کی مصروفیات اور میری کوتاہی کے باعث وہ سلسلہ وہیں رک گیا۔ نہ وہ یاد رکھ سکے نہ میں اصرار کر سکا۔
    آج جب یہ خبر موصول ہوئی کہ طاہرؔ فراز حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث ہم سے جدا ہو گئے ہیں تو دل پر ایک عجیب سی ویرانی اتر آئی۔ یوں لگا جیسے کوئی اپنا جس سے بات ادھوری رہ گئی ہو اچانک خاموش ہو گیا ہو۔
    اردو شاعری ایک ایسی مترنم اور شفیق آواز سے محروم ہو گئی ہے جس کی بازگشت مدتوں دلوں میں باقی رہے گی۔ طاہرؔ فراز رام پوری کا انتقال محض ایک شاعر کی رحلت نہیں بلکہ احساس، تہذیب اور عوامی شعور کے ایک پورے باب کا بند ہو جانا ہے۔ وہ شاعر جو لفظوں کو صرف برتتا نہیں تھا بلکہ انھیں زندگی عطا کرتا تھا۔ جس کی شاعری سننے والا ہر شخص کسی نہ کسی موڑ پر خود کو اس میں پہچان لیتا تھا۔
    طاہرؔ فراز کی شاعری دراصل عوام سے گفتگو ہے اسی لیے ان کا لہجہ بھی خالص عوامی ہے۔ ان کے اشعار میں ایسی سلاست اور شفافیت ہے کہ معمولی ذہنی سطح کا آدمی بھی ان سے حظ اٹھا سکتا ہے اور صاحبِ نظر بھی ان میں معنوی گہرائی پا لیتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ان کی شاعری کو طبقاتی حد بندیوں سے آزاد کرتا ہے اور اسے ایک ہمہ گیر، سورج و چاند آسا وجود عطا کرتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ریختہ نے طاہرؔ فراز کے بارے میں یہ تعارف پیش کیا ہے:
    "طاہر فراز کی گفتگو عوام سے” ہے۔ اس لیے ان کا لہجہ بھی عوامی ہے اور اس قدر کہ معمولی ذہنی سطح کا آدمی بھی ان کی شاعری سے حظ اٹھا سکتا ہے۔ اس نوع کی شاعری طبقاتی حد بندیوں کو توڑتی ہے اور شاعری کو ایک ہمہ گیر سورج ، چاند آسا صورت میں پیش کرتی ہے۔ طاہر فراز کا لہجہ اور آہنگ بہت خوب صورت ہے۔ مترنم آبشار کی مانند ہے ان کی غزل ۔ جو منفرد خوش آہنگ نامیاتی وجود ہے ان کی غزل کا ، وہ انھیں مشاعروں کے شاعروں سے بھی امتیاز کرتا ہے۔ ان کی شاعری میں درد اور کسک کی فضا ملتی ہے اور یہی ٹیس ان کے لہجے میں پوری شدت سے طلوع ہوتی ہے تو کتنوں کو بے حال کر دیتی ہے اور کتنوں پر وجد طاری کر دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں جو از دل خیزد، بر دل ریزد، والی بات ہے، وہ کم کم شاعروں کو نصیب ہوتی ہے۔”
    ریختہ کے یہ الفاظ طاہرؔ فراز کی شعری شخصیت کا نہایت درست، منصفانہ اور جامع احاطہ کرتے ہیں۔ ان کی غزل واقعی مترنم آبشار کی مانند ہے۔ ایک زندہ، نامیاتی اور خوش آہنگ وجود جو انھیں محض مشاعروں کے شاعروں سے الگ مقام دیتا ہے۔
    طاہرؔ فراز 29 جون 1953ء کو بدایوں (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور بعدازاں روہیل کھنڈ یونی ورسٹی، بریلی سے اردو میں ایم۔اے کیا۔ کم عمری ہی سے شاعری کا آغاز کیا اور بہت جلد ہندستان کے نمائندہ شعرا میں شمار ہونے لگے۔ غزل ان کی محبوب صنف تھی۔ حمد، نعت، سلام اور منقبت میں بھی ان کا لہجہ سوز، عقیدت اور روحانی وقار سے لبریز نظر آتا ہے۔ خانقاہ نیازیہ سے وابستگی اور بزرگانِ دین سے عقیدت نے ان کی شاعری کو ایک باطنی گہرائی عطا کی۔

    جب غزل خاموش ہوئی: آہ طاہرؔ فراز


    طاہرؔ فراز اردو زبان سے محبت کرتے تھے۔ وہ اردو کے فروغ کے لیے تاعمر کوشاں رہے۔ طاہرؔ فراز نے اردو کو ہندو مسلم کے درمیان رائج کرنے پر زور دیا کہ اگر ملک کی تہذیب کو بچانا ہے تو اردو کو فروغ دینا ہوگا۔ اردو سے غیر مسلموں کی دوری کی ایک وجہ اسکرپٹ بھی ہے لیکن اردو اسکرپٹ کی ہر حال میں حفاظت کی جانی چاہیے کیونکہ یہ اس زبان کی تہذیبی شناخت اور اس کی روح ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اردو زبان کو کوئی خطرہ نہیں اور پوری دنیا میں اس کے چاہنے والے، بولنے والے اور جاننے والے آباد ہیں۔ وہ اردو رسم الخط کو اس کی شناخت اور روح قراردیتے تھے
    یہ بات بھی میرے لیے ہمیشہ ایک قیمتی ذاتی یادداشت رہے گی کہ ان کا شعری مجموعہ ’’کشکول‘‘ جو 2004ء میں شائع ہوا تھا انھوں نے وٹس ایپ پر مجھے پی ڈی ایف صورت میں عطا کیا۔ اسی کشکول اور ان کے دوسرے کلام سے منتخب چند اشعار یہاں بہ طور یادگار درج ہیں:
    جن کو نیندوں کی نہ ہو چادر نصیب
    ان سے خوابوں کا حسیں بستر نہ مانگ
    ۔۔۔۔۔۔
    حادثے راہ کے زیور ہیں مسافر کے لیے
    ایک ٹھوکر جو لگی ہے تو ارادہ نہ بدل
    ۔۔۔۔۔۔
    اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں
    کاش میں سب کے برابر ہوتا
    ۔۔۔۔۔۔
    جب بھی ٹوٹا مرے خوابوں کا حسیں تاج محل
    میں نے گھبرا کے کہی میرؔ کے لہجے میں غزل
    ۔۔۔۔۔
    ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمھارا انتظار
    گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی
    ۔۔۔۔۔
    تمام دن کے دکھوں کا حساب کرنا ہے
    میں چاہتا ہوں کوئی میرے آس پاس نہ ہو
    ۔۔۔۔۔۔
    پرانے عہد کے قصے سناتا رہتا ہے
    بچا ہوا ہے جو بوڑھا شجر ہماری طرف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مرے ہنر کا اسے بھی نہ تھا کچھ اندازہ
    ملال یہ ہے اسے دوسری شکست ہوئی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس قدر زخم ہیں نگاہوں میں
    روز اک آئینہ توڑ دیتا ہوں
    ۔۔۔۔۔۔
    فقیر وہ ہیں جو اللہ تیرے بندوں کو
    ہر امتیازِ نسب کے بغیر چاہتے ہیں
    طاہرؔ فراز کا انتقال 24 جنوری 2026ء کو ممبئی میں ہوا جہاں وہ اہلِ خانہ کے ساتھ ایک شادی کی تقریب اور صاحب زادی کے علاج کے سلسلے میں مقیم تھے۔ 25 جنوری کو بعد نمازِ ظہر وہیں تدفین عمل میں آئی۔ پسماندگان میں اہلیہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
    طاہرؔ فراز کے جانے سے مشاعرے کچھ دیر کو سونے ہو گئے، غزل خاموش ہو گئی مگر ان کا کلام زندہ رہے گا۔ یادوں میں، کتابوں میں اور ان دلوں میں جنھوں نے کبھی ان کی آواز میں اپنے دکھ کی بازگشت سنی تھی۔ خود ان کا یہ شعر آج ان کی زندگی کا سب سے سچا استعارہ معلوم ہوتا ہے:
    یہ زندگی جو بہت مختصر ملی تھی مجھے
    سو میں نے بھی اسے دریا دلی سے خرچ کیا
    اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند کرے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے۔ آمین۔

  • خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

    خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

    خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    بشیر بدر کہتے ہیں کہ
    خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
    کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
    ان خوبصورت اشعار کے خالق بشیر بدر اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک ممتاز شاعر کے طور پر مشہور ہوئے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں بشیر بدر کا نام ایک ایسے شاعر کے طور پر لیا جاتا ہے جس نے روایت اور جدیدیت کے بیچ ایک حسین توازن قائم کیا۔ ان کی زندگی، تخلیقی سفر اور ادبی خدمات نہ صرف اردو ادب کے لیے سرمایہ افتخار ہیں بلکہ برصغیر پاک و ہند کی تہذیبی اور سماجی تاریخ کا بھی ایک اہم حوالہ ہیں۔

    بشیر بدر کا اصل نام سید محمد بشیر تھا وہ 15 فروری 1935ء کو فیض آباد (موجودہ ایودھیا، اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جیسے عظیم علمی ادارے سے وابستہ رہے جہاں سے انہوں نے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں اور بعد ازاں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ علی گڑھ کی علمی فضا نے ان کی فکر اور جمالیاتی ذوق کو جِلا بخشی۔

    ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ پہلو 1987ء کے میرٹھ فسادات ہیں، جب ان کا گھر اور کتب خانہ جلا دیا گیا۔ ہزاروں اشعار اور مسودات خاکستر ہوگئے۔ اس حادثے نے نہ صرف ان کی نجی زندگی کو بدل کر رکھ دیا بلکہ ان کے فکری اور تخلیقی رجحانات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ بعد ازاں وہ بھوپال منتقل ہوگئے جہاں ان کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔

    انہوں نے شاعری کا آغاز سات برس کی عمر میں کیا اور رفتہ رفتہ وہ اردو غزل کے جدید لہجے کے بڑے نمائندہ شاعر کے طور پر سامنے آئے۔ ان کی شاعری میں جابجا محبت، فلسفہ، سماجی شعور اور عصری مسائل کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

    ان کے مجموعات ’’آمد‘‘، ’’آہٹ‘‘، ’’ایمیج‘‘، ’’اجالے اپنی یادوں کے‘‘، ’’اکائی‘‘ اور ’’کلیاتِ بشیر بدر‘‘ ان کی تخلیقی عظمت کے شاہکار ہیں۔
    تنقید کے میدان میں ان کی دو کتابیں — ’’آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘ اور ’’بیسویں صدی میں اردو غزل‘‘ اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں انہوں نے آزادی کے بعد غزل کی داخلی اور خارجی تبدیلیوں کا جائزہ نہایت باریک بینی سے لیا۔

    بشیر بدر کی شاعری میں عشق و محبت کے نازک جذبات، زندگی کی تلخ حقیقتیں اور سماجی اقدار کی کشمکش ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ وہ روایت سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ان کی زبان اور طرزِ اظہار جدید قاری کے دل کو چھو لیتا ہے۔
    ان کے ہاں رومانی تجربات کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر انسانی دکھ اور اجتماعی شعور بھی ملتا ہے:
    وہ غلامی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔
    خدا، عشق اور انسانیت کو ایک نئے زاویے سے دیکھتے ہیں۔
    ان کی شاعری میں داخلی سوز اور بیرونی حقیقتوں کا امتزاج نظر آتا ہے۔
    ان کے اشعار میں موسیقیت اور روانی ایسی ہے کہ عام قاری بھی فوراً متاثر ہوجاتا ہے اور دانشور بھی ان کی گہرائی کو محسوس کرتا ہے۔

    خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے

    بشیر بدر صرف شعری دنیا تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے اشعار سیاست اور عوامی زندگی میں بھی مشہور ہوئے ہیں۔ ان کا مشہور شعر
    ’’دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
    جب کبھی ہم دوست ہوجائیں تو شرمندہ نہ ہوں‘‘ 1972ء کے شملہ معاہدے کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے بھی بشیر بدر کا یہ پڑھا تھا۔ بھارتی پارلیمان میں بھی ان کے اشعار نریندر مودی اور راہل گاندھی جیسے رہنماؤں کی زبان پر آئے۔
    ان کے کلام کو فلمی دنیا اور پاپ کلچر ثنے بھی اپنا حصہ بنایا۔ 2015ء کی فلم ’’مسان‘‘ میں ان کی شاعری کو بطور خراجِ عقیدت شامل کیا گیا۔

    بشیر بدر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پدم شری ایوارڈ (1999ء) اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کا شمار ان چند شعرا میں ہوتا ہے جنہیں عوامی سطح پر بھی مقبولیت ملی اور ادبی دنیا میں بھی۔

    ان کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو اس کی سادگی اور اثر آفرینی ہے۔ ناقدین کے نزدیک وہ غزل کو عوامی سطح پر لے آئے جس سے ’’ادب برائے ادب‘‘ کا معیار قدرے نرم پڑ گیا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انہوں نے اردو غزل کو نئی نسل میں زندہ رکھنے اور اسے عام قاری کے ذوق سے جوڑنے میں بے مثال کردار ادا کیا۔
    ان کی شاعری میں روایت اور جدیدیت کی کشمکش ایک نئی جمالیات کو جنم دیتی ہے۔ وہ نہ تو محض روایتی شاعر ہیں اور نہ ہی فقط جدیدیت کے نمائندہ؛ بلکہ انہوں نے دونوں کے درمیان ایک پل باندھنے کی کوشش کی ہے۔

    بشیر بدر کی زندگی دکھوں، جدوجہد اور تخلیقی کامیابیوں کی داستان ہے۔ ان کی شاعری اردو غزل کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے جس میں عشق، کرب، فلسفہ اور سماجی شعور سب کچھ موجود ہے۔ ان کے اشعار آج بھی قاری کے دل کو چھونے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کے اشعار میں انسان کی بنیادی کیفیات اور جذبات کی سچائی جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اہل ذوق قارئین کے مطالعے کے لیے ان مشہور زمانہ غزل پیش خدمت ہے۔
    *
    غزل
    *
    خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
    کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے

    خطاوار سمجھے گی دنیا تجھے
    اب اتنی زیادہ صفائی نہ دے

    ہنسو آج اتنا کہ اس شور میں
    صدا سسکیوں کی سنائی نہ دے

    غلامی کو برکت سمجھنے لگیں
    اسیروں کو ایسی رہائی نہ دے

    خدا ایسے احساس کا نام ہے
    رہے سامنے اور دکھائی نہ دے

    مجھے ایسی جنت نہیں‌ چاہیے
    جہاں سے مدینہ دکھائی نہ دے

  • قطب بہرائچ سیّد امیر ماہ بہرائچیؒ

    قطب بہرائچ سیّد امیر ماہ بہرائچیؒ

    سیّد افضل الدین ابو جعفر امیر ماہ بہرائچیؒ کو بہرائچ میں سیّد سالار مسعود غازیؒ کے بعد سب سے زیادہ مقبولیت وشہرت حاصل ہوئی۔آپ کی پیدائش بہرائچ میں ہوئی ۔آپ کی سن ولادت کسی کتاب میں نہیں ملتی ۔
    پروفیسر خلیق احمد نظامی(علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) لکھتے ہیں :
    میر سیّد امیر ماہ ؒبہرائچ کے مشہور ومعروف مشائخ طریقت میں تھے۔ سیّد علاء الدین المعروف بہ علی جاوریؒ سے بیعت تھی۔آپ نے وحدت الوجود کے مختلف مسائل پر رسالہ ’’المطلوب فی العشق المحبوب ‘‘لکھا تھا ۔فیروز شاہ جب بہرائچ گیا تھا توان کی خدمت میں بھی حاضر ہوا اور ’’بسیار صحبت نیک دگرم برآمد‘‘۔فیروز شاہ کے ذہن میں مزار (حضرت سیّد سالار مسعود غازیؒ ) سے متعلق کچھ شبہات بھی تھے ،جن کو سیّد امیر ماہ ؒنے رفع کیا ۔ عبد الرحمن چشتیؒ (مصنف مرأۃ الاسرار) کا بیان ہے کہ اس ملاقات کے بعد فیروز شاہ کا دل دنیا کی طرف سے سرد پڑگیا تھا، اور اس نے باقی عمر یاد الٰہی میں کاٹ دی۔ (سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات ص ۴۱۴)

    amir mah bahrachi
    ( تصویر جنید احمد نور 2017ء)درگاہ حضرت سیّد امیر ماہ بہرائچی


    مولانا حکیم عبدالحئ ندویؒ ’’نزھتہ الخواطر ‘‘میں لکھتے ہیں :
    شیخ محمد بن نظام الدین بن حسام الدین بن فخرالدین بن یحییٰ بن ابی طالب بن محمود بن علی بن یحییٰ بن فخرالدین بن حمزہ بن حسن بن عباس بن محمد بن علی بن محمد بن اسماعیل بن جعفر حسینی(امام جعفر صادقؒ)۔ابو جعفر کنیت امیرماہؒ کے نام سے مشہور بڑے مشائخ میں سے تھے۔طریقئہ سلوک شیخ علاء الدین حسینی جیوری سے طے کیا اور انھیں سے خرقہ فقیری پہنا۔اور شیخ کوجمال الدین کوئلی کی صحبت اختیار کی اور ان سے بھی راہِ طریقت اختیار کیا ۔آپ کی تصنیف کردہ کتابوں میں سے’’ المحبوب فی عشق المطلوب معارف ‘‘فارسی زبان میں ہے۔اسکی تصنیف فیروز شاہ (تغلق) کے زمانے میں کی تھی۔جبکہ فیروز شاہ تغلق نے آپ سے شہر بہرائچ میں ملاقات کی اور فیض بھی حاصل ۔سیّد اشرف جہانگیر سمنانی ؒ بھی اسی شہر میں آپ سے ملے اور انکے فضل و کمال کے معترف ہوئے جیسا کہ ’’مرآۃ اسرار ‘‘میں موجو دہے ۔ مہر جہاں تاب میں لکھا ہے کہ وہ (امیرماہؒ)فیروز شاہ کے زمانے میں وفات پاگئے تھے۔ (نزھتہ الخواطر ،جلد ۳،ص۲۰۳)
    مخدوم سیّد معین الحق جھونسوی ؒ لکھتے ہیں :
    حضرت امام جعفر صادقؑ کے بڑے صاحبزادے سیّد اسمٰعیل اعرج تھے۔جو والد ماجد کی حیات میں ہی وفات کر گئے ۔سیّد اسمٰعیلؒ کے دو صاحبزادے تھے ۔۱۔سیّد علی اکبر جن کی اولادوں میں مخدوم سیّد اشرف جہانگیر سمنانی ؒ بن سلطان ابراہیمؒ آتے ہیں۔ اور میر سیّد علاء الدین ہیں جن کی قبر اطہر اودھ میں ہے ۔ان دونوں بزرگوں کا سلسلئہ نسب میر سیّد علی اکبر بن میر سیّد اسمٰعیل بن حضرت امام جعفر صادقؒ منتہی ہوتا ہے۔ حضرت میر اسمٰعیل اعرج کے دوسرے صاحبزادے میر سیّد محمد ہیں ۔جن کی نسل سے حضرت سیّد ابوجعفر امیرماہؒ بہرائچی ہیں۔آپ سلسلئہ کبرویہ سہروردیہ میں حضرت میر سیّد علاء الدین جیوری ؒ کے مرید و خلیفہ تھے۔حضرت سیّد ابوجعفر امیرماہؒ کا نسب بھی اس طور سے حضرت میر سیّد اسمٰعیل اعرج تک پہنچتا ہے۔(منبع الالنساب ،جھونسوی، ۲۰۱۰ء،ص ۳۴۸)
    صاحب ’’مراۃ اسرار‘‘ عبد الرحمن چشتی لکھتے ہیں کہ سیّد اشرف جہا نگیر سمنانیؒ نے جس کتاب میں ہندستان کے تمام سادات کا ذکر کیا ہے ۔اس میں لکھتے ہیں :
    سادات خطۂ بہرائچ کا نسب بہت مشہور ہے ،سادات بہرائچ میں سیّد ابو جعفر امیر ماہ ؒ کو میں نے دیکھا ہے ،وادی تفاوت میں بے نظیر تھے،سیّد شہید مسعود غازیؒ کے مزار کی حاضری کے موقع پر میں اور سیّد ابوجعفر امیرماہؒ اور حضرت خضر ؑساتھ ساتھ تھےان کی مشیخت کےاکثرحالات کےلئےمیں نےحضرت خضرؑکی روح سےاستفادہ کیاہے۔سیّدامیرماہ ؒمزارکازیارت گاہ خلق ہے۔ (مرأۃ الاسرار ۱۹۹۳ء، ص ۹۲۹)

    masjid
    مسجد درگاہ امیر ماہ بہرائچی رحمہ اللہ


    صاحب مرأۃ الاسرار عبد الرحمن چشتیؒ نے حضرت سیّد امیر ماہ رحمۃ اللہ علیہ کے تفصیل سے حالات لکھے ہیں:
    ’’عارف پیشوائے یقین مقتدائے وقت میر سیّد امیر ماہ بن سیّد نظام الدین قدس سرہ،آپ کا شمار کاملین ِروزگار وبزرگان صاحب اسرارمیں ہوتا ہے۔آپ شانِ عظیم وکرامات، وافر وحالِ قوی وہمت بلند کے مالک تھےآپ کے والد میر سیّد نظام الدین شہر کے عالی نسب سادات میں سے تھےاورحادثٔہ ہلاکو خاں کے وقت ہندوستان تشریف لائے۔آپ بہرائچ میں مقیم ہوئےاور اسی جگہ وصال پایا۔‘‘
    سیّد امیر ماہ ظاہری علوم حاصل کرنے کے بعد میر سیّد علاؤالدین جاوری کی خدمت میں جاکر مرید ہو گئے اور کمالات ظاہری و باطنی سے بہرہ مند ہوئے۔کچھ عرصہ بعد سلسلۂ سہروردیہ کا خرقٔہ خلافت حاصل کیا اور مسند ارشاد پر متکمن ہوئے۔قطب اولیا شیخ نظام الدین الو المویدؒ جن کا مزار قصبہ کولی میں واقع ہے کے پسرزادے شیخ جمال بھی ان کے مرید تھے۔میر سیّد علاؤالدین جاوریؒ ،شیخ شہاب الدین عمر سہروردیؒ کے اکمل خلفاء میں تھے ،اور بڑے صاحبِ کمال تھے۔آپ سلطان المشائخ کے ہم عصر تھے اور آپ کی عمر دراز تھی۔آپ کا مزار موضع جاور میں ہے جو دہلی کے قریب ہے۔سیّد امیر ماہؒ ظاہری و باطنی سفر کے بعد بہرائچ میں مسندِ ارشاد پربیٹھے اور خلقِ خدا کو فیض پہنچایا۔
    شیخ عین الدین قتال بن شیخ سعد اللہ کیسہ دار کنتوریؒ نے بھی سیّد امیر ماہ ؒ سے تربیت حاصل کی تھی۔
    آپ کیتصانیف کے سلسلہ میں صرف ایک کتاب ’’المطلوب فی عشق المحبوب‘‘ نامی رسالہ کا ذکر ملتا ہے جو بعہد سلطان فیروز شاہ تغلق کی ہے۔ اس رسالہ کے پہلے باب در بیان عشق کا کچھ حصہ مصنف مرأۃ الاسرار نے نقل کیا ہے اور کچھ حصہ حضرت مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ نے اپنی کتاب ’’معمولات مظہریہ ‘‘میں نقل کر کے سالک کے کچھ درجے اور مقامات بتائے ہیں۔
    مصنف مرأۃ الاسرار نے نقل کیا ہے کہ ’’اے عزیز آدمؑ کو سلطان ِ عشق نے اس دن منہ دکھایا جب وہ بہشت سے باہر لائے گئے اور دنیا میں تنہا چھوڑ دیا ۔نوحؑ کوسلطان ِ عشق نے طوفان کے اندر کشتی میں منہ دکھایا۔یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ میں ۔ابراہیمؑ کو آگ میں پھینکتے وقت۔یعقوبؑ کو اس وقت جب یوسفؑ ان سے جدا ہوئے۔یوسفؑ کو اس وقت جب وہ بازارِ مصر میں سترہ درہم کے عوض فروخت ہوئے۔موسیٰ ؑ کو اس وقت جب وہ مصر سے باہر نکلے اور فرعون ان کے پیچھے دوڑرہا تھا۔سلیمانؑ کو اس وقت جب ان کی انگوٹھی گر گئی اوران کے ملک سے باہر جا پڑی۔زکریاؑ کو اس وقت جب ان کے سرپر آرہ چلایا گیا اور حضرت محمد رسولﷺ کو اس روز سلطانِ عشق نے منہ دیکھا جب آپ ؐنے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔حسین بن منصور کو اس روز جب انہیں دار پر چڑھایا گیا۔عند القضاۃ ہمدانی کو اس وقت جب بوریا میں لپیٹ کر آگ میں پھینکا گیا اور اس رسالہ کو جمع کرنے والے کو(یعنی مصنف کو) اس روز سلطانِ عشق نے منہ دیکھا جب خطۂ بہرائچ میں جو اس فقیر کی جائے پیدائش ہے ،سپہ سالار سعد الدین مسعود غازیؒ کے پائنتی کتاب فرحت العاشقین کے مطالعہ میں مشغول تھا ۔اسی وقت خواجہ حضرت خضرؑ کی زیارت ہوئی،آپ نے ایک عالم کی صورت میں ہوا میں کھڑے ہو کر فرمایا :
    اے فرزند ہوشیار ہو جاؤ لشکرِ عشق دوڑا ہوا آرہا ہے۔اسی ہفتہ کے اندر کفار کے لشکر نے جمع ہو کر بہرائچ پر حملہ کا اور گھروں کو جلا دیا۔خانقاہ میں بھی چند آدمی شہید ہوگئے اور اس فقیر کو بھی زد وکوب کیا ۔بلکہ عشق کی ضربیں منہ پر پڑیں جیسے کہ چاند کے منہ پر ہیں۔میں شکر بجا لایاکہ عشق نے اس فقیر کو منہ دکھایا ۔اس وجہ سے وہاں سے ترک سکونت کر کے اودھ چلاگیا۔ کیونکہ یہ عشق بازی ہے بلکہ جاں بازی ہے۔اس رسالے میں آپ نے اکثر اولیا اکرام کے حالات و مقالات بیان فرمائے ہیں۔ صاحب مراۃ الاسرار مزید لکھتے ہیں کہ آپ کے کمالات کا اس بات سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ سیّد امیر ماہ کا مزار بہرائچ کے خطہ میں زیارت گاہِ خلق ہے اور آپ کی اولاد اب تک وہاں آباد ہے۔ان میں سے میر سیّد احمد کو اس فقیر (مصنف کتاب مراۃ الاسرار) نے بادشاہ جہانگیر کے عہد میں دوسری مرتبہ دیکھا ۔بڑے نیک آدمی تھے۔اس وقت میر سیّد علاؤالدین اخلاقِ محمدی سے متصف ہیں اور اپنے اجداد کی مسند پر متکمن ہیں۔(مراۃ الاسرار ص ۹۲۵-۹۲۶)
    معین احمد علوی کاکوروی اپنے رسالے ’’ میر سیّد امیر ماہ بہرائچیؒ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ آپ کا زمانہ حضرت نصیر الدین محمود ؒ ’’چراغ دہلی‘‘ (متوفی ۷۵۷ھ) زمانے سے لیکر حضرت میر سیّد اشرف جہانگیر ؒ (متوفی۸۰۸ھ)تک ہے۔(میر سیّد امیر ماہ مطبوعہ ثانی ۲۰۱۵ء ص ۸)
    پروفیسر اقبال مجددی (پاکستان)لکھتے ہیں کہ شیخ عبدالرحمٰن چشتی ؒ کے ایک بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ امیر ماہ ؒ کئی کتابوں کے مصنف تھے۔لیکن انہوں نے ان کے صرف ایک رسالے ’’المطلوب فی عشق المحبوب‘‘کا ہی ذکر کیا ہے۔آپ کے اس رسالہ’’ المطلوب فی عشق المحبوب ‘‘کا ہندستان میں صرف ایک نسخہ موجود ہے۔جیسا کہ پروفیسر خلیق احمد نظامی نے اپنی کتاب ’’سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اس کا ایک قلمی نسخہ میرے ذاتی کتب خانے میں ہے۔
    پروفیسر اقبال مجددی نے اپنی تصنیف تذکرہ علماءو مشائخ پاکستان وہند (جلد اول)کے صفحہ ۶۴۳پر لکھتے ہیں :
    اس رسالہ کے تین قلمی نسخے کتب خانہ داتا گنج بخش ؒ میں اور کوئٹہ میں سلطان الطاف علی کے کتب خانہ میں ایک قلمی نسخہ موجود ہیں ۔کوئٹہ میں موجود قلمی نسخہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امیرماہ ؒنے یہ رسالہ سلطان فیروز شاہ تغلق کے لیے تالیف کیا تھا۔لیکن اس رسالے کے دیگر خطی نسخوں سے یہ جملہ حذف ہو چکا ہے۔
    تاریخ فرشتہ نے فیروز شاہ کے سفر بہرائچ کے تذکرہ میں امیر ماہؒ کا تذکرہ کیا ہے ، فیروز شاہ آپ کی بزرگی سے متاثر ہو کر آپ ہی کے ساتھ سیّد سالار مسعود غازیؒ کے مزار پر حاضر ہواتھا، راستہ میں سیّد صاحب سے حضرت سیّد سالار مسعود غازیؒ کی بزرگی وکرامات کے واقعات پوچھنے لگا، آپ نے فرمایا کہ’’ یہی کرامت کیا کم ہے کہ آپ کا ایسا بادشاہ اور میراایسا فقیر دونوں ان کی دربانی کر رہے ہیں ‘‘اس جواب پر بادشاہ جس کے دل میں عشق کی چاشنی تھی بہت محظوظ ہوا۔
    حکیم مولوی محمد فاروق نقشبندی مجددی بہرائچیؒ آپ کی کرامت کے بارے میں لکھتے ہیں:
    امیر ماہ بہرائچیؒ کی کرامتیں اہل بہرائچ میں میں بہت کچھ مشہور ہیں عوام ہنود و اہل اسلام کو خدا کی جھوٹی قسم کھانے میں باک نہیں مگر آپ کی چھوٹی قسم کھانے سے بہت ڈرتے ہیں۔موجودہ وقت میں بھی لوگ یہاں جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے ہیں۔(سوانح سیّد سالار مسعود غازیؒ ص ۳)
    اولاد کے سلسلہ میں صرف دو صاحبزادوں کاتذکرہ ملتا ہے ،جن سے خاندان پھیلا۔
    (۱) حضرت سعید ماہ عرف چاند ماہ (۲) حضرت تاج ماہ۔
    حضرت سعید ماہ کی زوجہ اولیٰ مدنی تھیں،ان کے چار بیٹے ہوئے ، سیّد علی ماہ ،سیّد جان ماہ ، سیّد عالم ماہ ،سیّد بڑے ماہ۔ دوسرے بیٹے حضرت تاج ماہ کا تذکرہ متعدد کتابوں میں ملتا ہے ۔آپ سب کی اولاد یں آج بھی شہر اورنگرور میں آباد ہیں۔
    مرأۃ الاسرار کے مصنف نے بھی میر ماہ کے ایک صاحبزادہ سیّد تاج ماہ کا تذکرہ کیا ہے جو عمر میں سب سے چھوٹے تھے ، لکھتے ہیں:
    ’’عجب حالے قوی داشت ،دائم الخمر بود بطریق ملامتیہ رفتے وجمال ولایت خود رااز نظر اغیار پوشیدہ داشتے‘‘
    اس کے بعد یہ واقعہ نقل کرتے ہیں کہ’’کسی زمانہ میں سیّد امیر ماہ بیمار پڑے تو بیٹے نے والد کی زندگی سے ناامید ہو کر بیماری سلب کر کے اپنے اوپر اوڑھ لی اور ’’جان در مشاہدۂ حق تسلیم کرد‘‘ میر محمد ماہ صاحب کو تو صحت ہوگئی ،مگر غمگین باپ کو لڑکے کی استعداد باطنی کا احساس ہوا اور فکر مند رہنے لگے ، اتفاقاً ایک دن ان کی قبر پر گئے تو دیکھا کہ ایک مجاور کی ہتھیلی پر ’’بخط سبز‘‘ یہ شعر لکھا تھا ، جب تک وہ زندہ رہا مٹا نہیں۔


    بگو اے مرغ زیرک حمد مولیٰ
    کہ جانِ تاج مہ بر عرش بروند

    dargah

    ترجمہ: اے داناپرندے خدا کی حمد کرو اور ان کو بتاؤ کہ تاج ماہ کی جان عرش پر لے گئے۔
    تاریخ آئینہ ٔاودھ کے مصنف مولانا شاہ ابوالحسن قطبی والحسامی مانکپوری نے افسران کمشنری کے ساتھ اپنی ملازمت کے دوران سفر کیا ،خود۱۸۷۵ءمیں بہرائچ آئے اور یہاں کے لوگوں سے مل کر تحقیقات کر کے ایک پورے باب میں اس کی تفصیلات لکھی ہے ۔لکھتے ہیں:
    ہلاکو خاں کے ہنگامۂ بغداد سے پریشان ہو کر ۶۵۷ھ مطابق ۱۳۵۸ء میں سیّد حسام الدین جد سیّد افضل الدین ابو جعفر امیر ماہ بہرائچی بغداد شریف سے جلا وطن ہو کر براہ غزنی لاہور آئے ، بعد قیام چند ے لاہور سے دہلی آئے ، اس وقت بادشاہ دہلی سلطان غیاث الدین بلبن تھا، اس نے آناآپ کا باعث یُمن سمجھ کر وظیفہ مقرر کردیا ،۷۴۳ھ میں جب محمد شاہ تغلق نے دہلی کو ویران کر کے دیو گڑھ دولت آباد دکن لیجانا چاہا اس وقت سیّد نظام الدین والد ماجد حضرت کے وہاں نہ گئےاور جانب اودھ متو جہ ہوئے ۷۴۴ھ میں سواد مقام بہرائچ پسند مزاج ہوا، اور طرح اقامت ڈالی۔ ۷۵۴ھ مطابق۱۳۵۳ء میں جب فیروز شاہ تغلق سفر بنگالہ سے وارد بہرائچ ہوا تو سیّد افضل الدین ابو جعفر امیر ماہ کا معتقد ہو کر چنددیہات واسطے صرف خانقاہ کے عطا ومعاف کئے، ان کے بیٹے سیّد تاج الدین ان کے سیّد مسعود ان کے سیّد احمد اللہ ،ان کے سیّد محمود ،ان کے سیّد مبارک ، ان کے سیّد ناصر الدین ، انکے سیّد نظام الدین ،ان کے سیّد رکن الدین ، ان کے سیّد علی الدین ، انکے سیّد غلام حسین ، ان کے سیّد غلام رسول ، اس وقت تک سب لوگ محی سنت آبائی کے رہ کر طریقۂ رشد وارشاد جاری رکھتے تھے۔اور اہتمام اعراس کا کرتے رہے ، جب ان کے بیٹے سیّد غلام حسین ثانی ہوئے ، ان کو ویسا فضل وکمال حاصل نہ تھا ، وہ طریقہ آبائی رشدو ارشاد ضعیف ہوگیا ، ان کے دو پسر غلام محمد وغلام رسول ثانی ۔ یہ معاصر تھے، نواب شجاع الدولہ بہادر کے ، بعد صلح بکسر کے جب صلح نامہ گورنمنٹ انگلشیہ سے ہوا تونواب ممدوح الذکر نے حکم ضبطی کل معافیات صوبۂ اودھ کا صادر کیا ، یہ دونوںبھائی بطمع بحالی معافی بہ تبدیل مذہب آبائی پابند مذہب امامیہ ہوگئے ، اس قدر فائدہ تبدیل مذہب سے ہوا کہ نصف معافی بحال اور نصف ضبط ہوگئی ،اس وقت سے بجائے اعراس کے تعزیہ داری کرنے لگے۔(آئینہ اودھ ص ۱۵۴-۱۵۵)
    امیر ماہؒ بہرائچی کی وفات ۱۴؍ جون ۱۳۷۱ءمطابق۲۹؍ ذی القعدہ ۷۷۲ھ کوبہرائچ میں ہوئی تھی۔’’خزینۃ الاصفیاء‘‘میں معارج الولایت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ میرسیّد امیرماہؒ نے۷۷۲ھ میں انتقال کیا ، ان کا مزار پر انوار محلہ وزیر باغ / چاندپورہ میں نزد نانپارہ بس اسٹینڈ شہر بہرائچ میں واقع ہے۔یہ علاقہ عرف عام میں امیرماہ ؒکے نام سے مشہور ہے۔آپ کی مزار بہرائچ میں خلق کی زیارت گاہ ہے۔آپ کی خانقاہ میں ایک عالیشان مسجد بھی ہے۔خزینتہُ الأ صفِیا ء میں مصنف نے یہ قطعہ وفات لکھی ہے
    چوں شد میر مہ در بہشت بلند
    بہ ترحیل آن شاہ روشن یقین

    ’’ یکی پیر مہتاب سیّد بگو‘‘
    دگر کن رقم ’’ماہ روشن یقین‘‘

    772ھ

    معین احمد علوی کاکوروی صاحب نے اپنی تصنیف ’’ میر سیّد امیرماہ بہرائچی ‘‘میں آپ کی تاریخ وفات پر یہ قطعہ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مولوی احمد کبیر صاحب حیرت ؔ وکیل عدالت ساکن قصبہ پھلواری ولد حاجی مولوی فرید کی ایک کتاب میں جس میں تمام مشاہیر کی تاریخہائے وفات کے قطعات ہیں مندرجہ ذیل قطعہ نظر سے گذرا ۔
    ایں میرماہ عارف بداختر شہادت
    بیں نام والد او حضرت نظام دین بود

    بغداد بود اصلش بہرائچ ست مسکن
    علم دوکون حاصل از اہل دردبنمود

    بعد از وصال آں مہ حورے ہمیں دعارا
    بادایں جناں منور از میر ماہ فرسود

    772ھ

    (میر سیّد امیر ماہ بہرائچیؒ مطبوعہ ثانی ۲۰۱۵ء ص ۱۷)
    آئینۂ اودھ کا بیان ہے کہ’’ مزار شریف آپ کا جانب اتر کنارے آبادی بہرائچ اندر گنبد خشتی واقع ہے ،حوالی اس کے چاردیواری پختہ ہے، اور چار دیواری کے دروازہ پر ایک چھوٹی سی مسجد ہے انوارو برکات مزار شریف سے اس وقت تک پائی جاتی ہیں ،اور اہل باطن مالا مال فیضنسبت سے ہوتے ہیں‘‘
    موجودہ زمانہ میں بھی زیارت گاہ خلق ہے ،محلہ کا نام بھی عرف عام میں امیر ماہ کے نام سے مشہور ہے ،اب یہ جگہ قلب شہر بن گئی ہے ،بازار مزار شریف تک پھیل گیا ہے ، چاروں طرف آبادی ہی آبادی ہے ،شمال مشرق جانب پرانے سر کاری اسپتال کی عمارتیں ہیں۔ جنوب ودکھن سے شمال کو ایک سڑک جاتی ہوئی پچھم جانب سرحد بناتی ہے ۔
    موجودہ احاطہ کے اندر قدیم مسجد ہے جو موجودہ وقت میں توسع ہو کر ۳ منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ آپ کے مقبرہ کی بھی توسع ہوئی ہے اور اب نیاشاندار گنبد تعمیر کیا گیا ہے۔
    آپ کاعرس ۲۹؍ماہ ذیقعدہ کو ہو تاہے ، صبح قرآن خوانی کے بعد قل ہوتا ہے ، شام کو قوالی کی محفل ہوتی ہے اور مغرب کے قریب گاگر اٹھا کر مزار پر نذرانہ عقیدت پیش کیا جاتا ہے ، دوپہر سےدیررات تک میلہ لگتا ہے ۔

    Juned

    جنید احمد نور

    بہرائچ، اتر پردیش

  • سفر نامۂ بہرائچ

    سفر نامۂ بہرائچ

    شمالی ہندکا بہرائچ نامی تاریخی شہرریاست اترپردیش کے صدر مقام لکھنؤ سے تقریباً سواسو کلومیٹر دور ملک نیپال کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر سے یہ شہر میرے اسلاف پدری کا مسکن رہا ہے جب میرے پردادا سیّد ہادی حسن مرحوم و مغفورضلع رائے بریلی کے مردم خیزخطۂ جائس سے بہ سلسلۂ ملازمت وہاں جا بسے تھے۔ میرے دادا سیّد احمد حسن علیہ الرحمۃ اس شہر کے ایک نامور حکیم اور والد مرحوم جناب سیّد محمود حسن ضلع کے ایک ممتاز قانون داں اور ملّی رہنما تھے۔ میری والدہ محترمہ منور جہاں بیگم صوبائی حکومت میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز اور لکھنؤ میں رہائش پذیرخان بہادر سید احسان عظیم مرحوم کی بیٹی تھیں۔ انکے ایک ماموں مرادآباد کے مفتی محمد عطا مرحوم ضلع بہرائچ کی ریاست نانپارہ میں سرکاری افسر تھے اور میرے والدین انھیں کے توسط سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔ میری پیدائش لکھنؤ میں اپنے ننھیال میں ہوئی تھی اور میری عمر کا ایک غالب حصہ تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں بہرائچ سے دور دوسر ے متعدد شہروں میں گزرا ہے۔ بہرائچ میں میرا قیام تو بہت کم رہا مگر آنا جانا ہوتا رہا، اور اسی مناسبت سے میں نے اس مضمون کا عنوان سفرنامۂ بہرائچ رکھا ہے۔

                                                    1927ءمیں علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہوکر بہرائچ لوٹنے کے بعد میرے والد مرحوم محلّہ قاضی پورہ میں اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ ہی رہ رہے تھے۔   چند سال بعد انھوں نے آبائی گھر کے قریب ہی ایک بڑا پلاٹ خرید کے اس پر ایک وسیع و عریض رہائشی عمارت کی تعمیر شروع کروائی تھی۔ 1934ء میں انکی شادی کے بعد والدہ مرحومہ کے مشورے سے اسکے نقشے میں کافی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اگلے سال جب عمارت کسی قدر مکمّل ہوئی تو انھوں نے اسکی پیشانی پر قرآن مجید کی آیت کریمہ کُلّ مَن عَلیھا فانِ ویبقی وَجہِ رَبّکٰ ذُو الجَلالِ وَالِاکرام کا کتبہ لگوایا تھا ۔عہد طفولیت میں جب مجھے لکھنؤ سے بہرائچ لے جایا گیا تھا تب شہر میں بجلی کا نظام نہیں تھا اور اس کوٹھی میں بھی روشنی مٹی کے تیل کے لیمپ اور لالٹین وغیرہ سے ہوتی تھی، بجلی کے قمقمے میرے ہوش سنبھالنے کے کافی بعد روشن ہوئے تھے اور لکھنؤ سے بلوائے گئے ایک الکٹریشین کا وہیں سے لائے گئے سازوسامان سے گھر کی چھتوں اور دیواروں کو بجلی کے پنکھوں اور لیمپوں سے مزین کرنا مجھے ا چھی طرح یاد ہے۔ پانی کے نل اسکے بھی بعد لگے تھے ورنہ پہلے تو صحن مین لگے ہینڈ پمپ اور بہشتی صاحبان کے کنووں سے بڑی بڑی مشکوں میں بھر کر لائے ہوئے پانی سے ہی کام چلتا تھا۔

                                                    میری ابتدائی تعلیم والدین کی آغوش شفقت میں اسی کوٹھی میں ہوئی تھی اور اس میں اردو، فارسی، عربی، انگریزی، قرآن و حدیث اور اردو نثر و نظم سبھی کچھ شامل تھا۔ اسکے بعد میں نے شہر کے متعدد اداروں میں پڑھائی کی جسکی شروعات مسعودیہ جناح ہائی اسکول سے ہوئی تھی۔ یہ اسکول والد ماجد مرحوم نے جو اس وقت ضلع مسلم لیگ کے صدر تھے بعض معززین شہر کی اعانت سے ایک قلعے نما عمارت میں قائم کیا تھا اور مقامی روایت کے مطابق شہر میں واقع درگاہ سیّد سالار مسعود غازی کی نسبت سے اسکے نام میں لفظ ’’مسعودیہ‘‘ بھی شامل کیا تھا۔ جلد ہی ملک کی آزادی اور تقسیم کے بعدمسلم لیگ کے سبھی ارکان گرفتار کر لئے گئے تھے اور یہ اسکول ایک عرصہ بند پڑا رہا تھا۔ بالآخرشہر کے نامور عالم دین مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؔ نے جنکا تعلق کانگریس پارٹی سے تھا اپنے سیاسی رسوخ کا استعمال کرکے اسے اپنی تحویل میں لیا تھا اور اسکا نام مولانا ابو الکلام آزاد کے نام پر آزاد کالج رکھا تھا۔ سابقہ اسکول کے طالبعلم نئے ادارے میںمنتقل ہو گئے اور انکی پڑھائی جامعہ مسعودیہ نور العلوم کی عمارت میں شروع ہوئی تھی جہاں سے میں نے بھی درجہ پنجم مکمل کیا۔ ایک عرصے بعد یہ ادارہ شہر کے مضافات میں واقع راجہ نانپارہ کی ایک کوٹھی میں منتقل ہو گیا تھا جہاں میں ڈیڑھ سال تک زیر تعلیم رہا۔ وہاں میرے خاص معلم مرزا حامد علی بیگ صاحب تھے جن کے ساتھ میں ادارے کے احاطے میں موجود مسجد میں پابندی سے ظہر کی نماز پڑھتا تھا، جبکہ جمعہ کے دن وہاں نماز سے پہلے چھٹی ہوجایا کرتی تھی۔  1952ءمیں درجہ ششم کا امتحان میں نے آزادکالج سے ہی پاس کیا ۔

    Travelogue Bahraich

                                                     اگلے سال ساتویں کلاس کے وسط میں مجھے وہاں سے گورنمنٹ انٹر کالج میں شفٹ کردیا گیا جسکی عمارت شہر کے ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع تھی اور جہاں مدتوں پہلے خود والد مرحوم اور انکے سبھی بھائیوں نے دسویں تک کی تعلیم حاصل کی تھی۔ وہاں کے اس وقت کے پرنسپل مسٹر ایمرسن ینگ سے والد مرحوم کے اچھے مراسم تھے اس لئے وہ مجھ پر خاص شفقت کا معاملہ کرتے تھے۔ وہاں میرے خاص اساتذہ میں ماسٹر سورج نرائن آرزوؔ تھے جو اردو کے اچھے شاعر تھے اور برسوں پہلے اسی ادارے میں والد مرحوم کے ہم جماعت رہ چکے تھے، دوسرے اردو کے استاد مولوی محمد حسن جو فیض آباد کے تھے ، اور تیسرے مولوی سیّد حامد حسین جو محلّہ سیّد واڑہ میں رہتے تھے اور فارسی پڑھاتے تھے۔ اس کالج سے متصل ایک چھوٹی سی مسجد تھی جہاں میں مولوی محمد حسن صاحب کے ساتھ ظہر اور جمعے کی نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ مولوی حامد حسین صاحب بھی اگرچہ شیعہ مسلک کے تھے مگر اسی مسجد میں علیحدہ نماز پڑھتے تھے۔ مولانا محفوظ الرحمٰن مرحوم کے بھانجے مولوی جنید بنارسی جو مدرسے کے طالبعلم اور میرے قریبی دوست تھے مجھ سے ملنے گاہے بہ گاہے وہاں آیا کرتے تھے۔ کالج کے کئی اساتذہ مجھے گھر پر ٹیوشن بھی پڑھاتے تھے۔ کیونکہ آزادی کے بعد ذریعۂ تعلیم اردو کے بجائے ہندی ہوچکا تھا اس لئے والد مرحوم نے اسی کالج میں اپنے سابق استاد پنڈت رام بھروسے ترپاٹھی جی کو بلاکرمجھے گھر پر ہندی اور سنسکرت پڑھانے کی زحمت دی تھی۔ جون 1953ءمیں جب میری والدہ کا اچانک انتقال ہوا تب میں نویں کلاس کا امتحان دے چکا تھا اور نتیجے کا انتظار تھا۔ انھیں کالج سے تھوڑا ساآگے اسٹیشن روڈ کے کنارے قدیمی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا تھا اور میںان کی نماز جنازہ اور تدفین وغیرہ میںکم عمری کے باوجود والد مرحوم کے ساتھ قدم بہ قدم شریک تھا۔ اس حادثۂ جانکاہ کے بعد گھر کا ماحول سوگوار رہنے کے باعث مجھے کالج کے ہوسٹل میں منتقل کردیا گیا تھا اور میں نے آئندہ سال ہائی اسکول کا امتحان وہیں رہ کر پاس کیا تھا۔

                                                    گیارھویں کلاس کی تعلیم کیلئے مجھے لکھنؤ کے کرسچین کالج بھیجا گیا تھا مگر وہاں کا ماحول راس نہ آنے پر سال کے بیچ ہی میں واپس بہرائچ بلالیا گیا تھا جہاں میں نے گیارھویں کی کلاسیں کچھ دن گورنمنٹ انٹر کالج اور بعد میں شہر کے دوسرے کونے میں واقع مہاراج سنگھ کالج میں اٹنڈ کی تھیں ۔ وہیں میری دوستی اپنے ہم جماعتوں ساغرؔ مہدی، اظہارؔ وارثی اور شاعرؔ جمالی مرحومین سے ہوئی تھی جو آگے چل کر اردو کے قادرالکلام شاعر بنے تھے اور جن سے میرے دوستانہ تعلقات تینوں کی زندگی بھر قائم رہے۔بہرائچ میں طالبعلمی کے زمانے میں میری تگ و دو بیحد محدود تھی، گھر سے اسکول اور واپس گھرعموماً پیدل آتے جاتے شہر کے تاریخی گھنٹہ گھر کے اندر سے گزر ہوتا تھا۔ والد مرحوم علیٰ الصباح ہواخوری کیلئے جھینگا گھاٹ جایا کرتے تھے جس میں کبھی کبھی میں بھی انکے ساتھ ہوتا تھا۔ ہمارے گھر کے  ایک طرف جامع مسجد تھی اور دوسری طرف ایک چھوٹی سی مسجد فاطمہ، روزانہ فجر اور مغرب کی نمازوں کیلئے اس چھوٹی مسجد اور جمعے کی نماز کیلئے جامع مسجد جانا ہوتا تھا۔ کبھی کبھار والدبزرگوار کے ساتھ غازی میاں کی درگاہ سیّد سالار مسعود غازی جانا ہوتا تھا اگرچہ انھیں اس سے کوئی عقیدت نہیں تھی، اور مجھے تو بالکل ہی نہیں تھی۔ گورنمنٹ انٹر کالج کے سامنے ایک وسیع میدان تھا جہاں کبھی کبھی نمائش لگاکرتی تھی اور مشاعرے بھی منعقد ہوا کرتے تھے، وہاں بھی والد صاحب کے ساتھ ہی جانا ہوا کرتا تھا۔ مجھے خود شعروشاعری سے دلچسپی بچپن ہی سے تھی اور والدہ کے انتقال پر میں نے اپنی پہلی نظم کہی تھی۔ شہر کے معروف مزاح نگار شاعر سیّد ریاست حسین شوقؔ بہرائچی ایک عرصہ تک میرے والد کے محرر رہے تھے اور ایک خوش کلام اور مترنم شاعر محمد سعید خاں شفیقؔ بریلوی آزاد کالج کے پرنسپل تھے جبکہ والد مرحوم اس کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر تھے۔  ان دونوں بزرگوں کی صحبت نے میرے ادبی رجحان اور شاعرانہ ذوق کو بہت متاثر کیا تھا۔ 

                                                    گیارھویں کلاس کے بعد میں اپنے تایا مرحوم سیّد مرتضیٰ حسن صاحب کے ساتھ جونپور چلا گیا تھا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان میں نے وہیں سے پاس کیا تھا۔

     اسکے آگے میری تعلیم گورکھپور اور لکھنئؤ میں ہوئی تھی۔ 1960ءمیں لکھنؤ یونیورسٹی سے وکالت کا امتحان پاس کرکے میں پھربہرائچ آیا تھا اور تقریباً ایک سال اس پیشے میں طبع آزمائی کی تھی۔ وکالت کی پیشہ ورانہ تربیت پہلے شہر کے ناموروکیل آنجہانی بسنت رائے بھنڈاری سے اور بعد میں والد ماجد سے حاصل کی تھی۔ان دنوں میں بھی میری آمد و رفت بس گھر اور کچہری  کے درمیان ہی رہتی تھی،ہاںتہواروں پروالد صاحب کے ساتھ کئی معزز وکلاء کے گھروں پر جانا رہتا تھا۔  لیکن میری دلچسپی وکالت سے کہیں زیادہ شعر و ادب میں تھی اور میںنے انھیں دنوں ایک مرکزی مسجد میں منعقدہ ایک بڑے نعتیہ مشاعرے کی نظامت کی تھی۔ ستمبر 1960ءمیں حضرت جگرؔمرادآبادی کے انتقال  کے موقعے پر میں نے سیّد واڑے میں واقع امام باڑے میں ’’شام جگر‘‘ کے نام سے ایک محفل منعقد کی تھی اور اسکی نظامت بھی خود ہی کی تھی۔                      

                                                     وکالت کا پیشہ میرے مزاج اور رجحان سے متصادم تھا اور  مجھے جلد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ میں اس میں زندگی نہیں گزار سکتا تھا۔ چنانچہ بہت سوچ بچار کے بعد قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کرکے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا  ۔ دوسال بعد وہاں سے فراغت ہوئی اور پھرمعلمی کیلئے میرا قیام جونپور، بلرامپور، علی گڑھ اور دہلی میں رہا لیکن میں پابندی سے بہرائچ جاکر والد ماجد کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔1969ء میں قانون میں مزید تعلیم و تحقیق کیلئے لندن جانا ہوا تو اس درمیان یہ سلسلہ منقطع رہا مگر واپسی کے بعدپھر شروع ہوا۔ والد مرحوم کی زندگی میں آخری بار میں دسمبر 1973ءمیں بہرائچ گیا تھا۔ میرے بڑے بھائی مرحوم سیّد اختر محمود کی شادی کے سلسلے میں وہ لکھنؤ میں مقیم تھے اور میں بھی اہلیہ کے ساتھ اس میں شرکت کیلئے گیا تھا، وہیں سے وہ ہم دونوں کو اپنے ساتھ چند روز کیلئے بہرائچ لے گئے تھے۔

                                                    دسمبر1975ءمیں والد صاحب نے فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد مکہ معظمہ میں انتقال فرمایا تو خبر پاکر میں دہلی سے بھاگم بھاگ بہرائچ پہونچا۔ اس حادثے کے بعد بہرائچ سے دل اچاٹ سا ہوگیا اور آنے والے برسوں میں میرا وہاں جانا کم ہی رہا ، بس خاندان کے بچوں کی شادیوں یا دیگر خصوصی مواقع پر مختصر قیام کیلئے جانا ہوتا تھا۔ دسمبر 1996ءمیں قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے بہرائچ کے سرکاری دورے کے دوران میں نے شہر کے متعدد اداروں میں منعقدہ تہنیتی جلسوں میں شرکت کی تھی ۔

                                                    2004ءکے بعد اب تک کے تقریباً17  سالوں میں بعض ناخوشگوارحالات کی وجہ سے میں صرف دوبار بہرائچ گیا ہوں، اور دونوں بار صرف چند گھنٹوں کیلئے، ایک بارستمبر 2013ءمیں چھوٹے بھائی خالد محمود کی عیادت اور دوسر ی بار دسمبر2018ءمیں انکی تدفین میں شرکت کیلئے۔ اور اب اس سال اپریل میں میرے ایک اور چھوٹے بھائی راشد محمود کی اچانک وفات کے بعد تو بہرائچ میں میرے لئے کچھ بھی نہیں رہ گیا ہے۔ اب تو وہاں سے ربط بس بعض مخلص اصحاب کے فون پر پیغامات کے ذریعے ہی رہتا ہے جن میں وہاں کے ایک نوجوان اسکالر میاں جنید احمد نور کا نام سر فہرست ہے جنھیں وہاں کی تاریخ اور مشاہیر کے حالات سے خاص دلچسپی ہے اور ان موضوعات پرتصنیف و تالیف کرتے رہتے ہیں۔

                                                    میرے بچپن میں بہرائچ ایک مختصر سا  پس ماندہ شہر تھا،اسکی وسعت اور ترقی دونوں میں تیزی سے اضافہ بعد کے سالوں میں ہوا ۔  لیکن میں نے اپنے وطن پدری کو نہ بچپن میں وہاں قیام کے زمانے میں پوری طرح دیکھا تھا اور نہ بعد میں وہاں کے مسافرانہ اسفار میں اسکی نوبت آئی۔ عقیدت اس شہر سے بہرحال ہمیشہ رہی جسکا اظہار وقتاً فوقتاً نثر و نظم میں ہوتا رہا۔ میں نے اپنی ایک نظم میں بچپن میں اپنے گھر کے ماحول کی تصویر کشی کی ہے اور دو نظموں میں وطن پدری کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان تینوں نظموں کے اقتباسات ذیل میں نقل کئے جا رہے ہیں۔

    (1)
    چلتی پھرتی مجسّم دعا یاد ہے
    گھر میں اک مرد درویش تھا یاد ہے

    زندگی کے ترانوں میں شعرو ادب
    بندگی کے تقاضوں میں غیض و غضب

    غنچۂ و گل کی توقیر بھی ما وجب
    علم کی پیاس بجھتی تھی واں بے طلب

    چشم بینا کی فہم و ذکا یاد ہے

    علم و حکمت کی چھٹکی ہوئی چاندنی
    فہم و دانش کی بجتی ہوئی راگنی

    درد دل پند و تادیب کی چاشنی
    خفگیاں ظاہری شفقتیں باطنی

    تربیت کی انوکھی ادا یاد ہے

    دین و دل کی کہانی کہی جاتی تھی
    گفتگو دوستانہ سی کی جاتی تھی

    رائے چھوٹے بڑے سب کی لی جاتی تھی
    حسب موقع جو کلیوں کو دی جاتی تھی

    وہ دعا یاد ہے وہ دوا یاد ہے

    سایۂ عاطفت میں تھیں کلیاں مگن
    دین و دنیا بنانے کی ہر دم لگن

    جشن رمضان کا عید کا بانکپن

    بیت بازی کی لے درس قرآں کا فن

    نور افشاں چمن کی فضا یاد ہے

    مشکلوں میں بھی ہنسنے ہنسانے کی دھن
    کھیل ہی کھیل میں کچھ سکھانے کی دھن

    سیّدہ فاطمہؑ کے ترانے کی دھن
    لحن بانگ درا شاہنامے کی دھن

    گونجتی گھر میں حمد و ثنا یاد ہے

    (2)
    مری حیات کا ہر پل عطائے بہرائچ
    مرے دکھوں کا مداوا دوائے بہرائچ

    اودھ کی شام بنارس کی صبح ہو صدقے

    کہ اک جہاں سے جدا ہے ادائے بہرائچ

    قدوم سیّد سالار کا خزینہ ہے

    ہے نور حق سے منوّر فضائے بہرائچ

    ہے علم و فن کی روایات کا امیں یہ شہر
    ادب نواز ہے یارو ہوائے بہرائچ

    یہ شہر الفت باہم کا درس دیتا ہے

    مروّتوں کے سبق بھی سکھائے بہرائچ

    حیات بخش فضایں ہوایں پاکیزہ
    ہے پاس وضع کا گڑھ آبنائے بہرائچ

    میں راجدھانی میں رہ کر یہیں تو سوتا ہوں
    ہے روز لوری سناتی نوائے بہرائچ

    (3)
    علم کا خزینہ ہے سرزمین بہرائچ

    فضل کا نگینہ ہے سرزمین بہرائچ

    حسن ساری دنیا کا اس کے حسن پر قرباں

    ایسا آبگینہ ہے سرزمین بہرائچ

    جس نے بھی اسے دیکھا ہوگیا فدا اس پر

    دلربا حسینہ ہے سرزمین بہرائچ

    صورتیں یہاں کیا کیا خاک میں ہیں خوابیدہ

    علم کا دفینہ ہے سرزمین بہرائچ

    علم کے سمندر میں خوشہ چینی کرنے کو

    گویا ایک سفینہ ہے سرزمین بہرائچ

    کسب علم کے جذبے آکے یاں نکھرتے ہیں

    بام فن کا زینہ ہے سرزمین بہرائچ

    زندگی نبھانے کے گر بھی یہ سکھاتی ہے

    جینے کا قرینہ ہے سرزمین بہرائچ

    tahir mahmood

    پروفیسر سیّد طاہر محمود

    سابق چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن حکومت ہند

  • اس شہر میں تم جیسے  دیوانے ہزاروں ہیں

    اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں

    اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں

    ( کیا  امراو جان اداء  ایک حقیقی کردار تھا یا مرزا ھادی رسواء کی ذہنی تخلیق )

    تحقیق و تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    اردو ادب کے طالب علم کی حیثیت سے جہاں حصہ نظم میں غالب ، میر ، مومن ، آتش اور اقبال کو پڑھنے کا موقع ملا وہیں عظیم نثر نگاروں ,  ڈپٹی نذیر احمد اور مرزا محمد ہادی رسواء کی مشہور زمانہ نثری تخلیقات ، توبة النصوح اور امراؤ جان اداء جیسے ناول بھی پڑھنے کو ملے ۔

    چونکہ رسواء کا تعلق لکھنوء سے تھا لھذا وہاں کے کوٹھوں ( گانے بجانے والی طوائفوں کے  بالا خانے ) کے ماحول سے متاثر ہوکر انہوں نے ایک ایسا شاھکار تخلیق کیا جو آگے چل کر بالی وڈ ( Bollywood ) فلم کی شکل میں ہمارے سامنے آیا ۔

    1899ء  میں تخلیق کی گئی اس کہانی کے بارے میں ، مرزا ہادی  رسواء  نے کب سوچا ہوگا کہ آج سے کم و بیش 80 برس بعد ، اس کے ذھن سے ٹپکا ہوا خیال ، بمبئی فلم انڈسٹری کی ایک شاندار ، مہنگی اور معروف زمانہ فلم کا روپ دھار کر ، برصغیر ہندوپاک ہی نہیں بلکہ دنیاء بھر میں جہاں جہاں  اردو /ہندی بولی اور سمجھی جاتی ہے ، سینماوں کی زینت بنے گا ۔

    Umrao Jaan movie poster


اس شہر میں تم جیسے  دیوانے ہزاروں ہیں
    Image By Amazon

    پاک و ہند کا ایسا کونسا مسلمان ، ہندو اور سکھ ہوگا جو ایودھیا کے نام سے نا آشناء ہو ۔ اگر اس سے پہلے نہیں بھی جانتا تھا  تو ہندو انتہاء پسند  بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں 500 سو سال پرانی بابری مسجد کو گرائے جانے اور اس کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ، ہر خورد و کلاں ، پڑھا لکھا اور ان پڑھ ،  ایودھیا ، ضلع فیض آباد یوپی کو ذہن نشین کرچکا ہے ۔ مرزا رسواء کی امراو جان اداء کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا ۔

    قصہ کچھ یوں ہے کہ

    ایودھیا فیض آباد میں دلاور خان نامی ایک بدمعاش رہتا تھا ۔ وارداتیں کرنا اور جیل یاترا اس کی زندگی کا معمول تھا ۔ اسی سلسلے کے ایک مقدمے میں اس کے  پڑوسی نے پولیس کے کہنے پر اس غنڈے کے خلاف گواہی دیدی اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے امراؤ جان اداء جیسے کردار کا جنم ہوا ۔

    بدمعاش دلاور خان کو پڑوسی کی گواہی پر جیل تو جانا پڑ گیا لیکن اس نے دل ہی دل میں ٹھان لی کہ واپس آکر اس گواہ سے بدلہ لونگا لھذا جب وہ رہا ہوکر آیا تو اس نے اس پڑوسی ( گواہ ) کی  ” امیرن ” نامی بیٹی اغوا کرلی اور اسے لکھنوء لے جاکر ایک طوائف ” خانم جان”کے ہاتھ فروخت کردیا ۔

    اس شھر میں تم جیسے  دیوانے ھزاروں ہیں

    یاد رہے یہ اس زمانے کی بات ہے جب لکھنوء کے کوٹھے ( Red light Area ) ، طوائفیں , رقاصائیں  اور بائیاں ( Mistresses ) پورے برصغیر میں مشہور تھیں ۔ ان کوٹھوں پر نہ فقط رقص و سرود کی محفلیں جمتی تھیں بلکہ انہیں تہذیب اور آداب محفل سکھانے کی درس گاہوں کا درجہ حاصل تھا ۔ بڑے بڑے روساء اور نواب اپنے بچوں کو تہذیب سکھانے کے لئے ان بائیوں کے پاس بھیجا کرتے ۔

    چونکہ ہادی رسواء کے آتے آتے یہ اسکول اخلاقی تنزلی کا شکار ہوچکا تھا اور اب وہ پہلے والے کوٹھے نہ تھے اس لئے اس نے لکھنوی معاشرے  کی نفسیاتی ، معاشرتی ، اخلاقی اور تہذیبی تصویر اجاگر کرنے کے لئے امراو جان اداء کے نام سے ناول لکھا ۔

    بعض مورخین اردو ادب ، اس کتاب اور کہانی کو اردو کا پہلا ناول قرار دیتے ہیں لیکن قطع نظر اس کے کہ یہ پہلا تھا یا دوسرا ، یہ بات برملا کہی جاسکتی ہے کہ رسواء نے شاہکار تخلیق کیا ۔ قاری شروع سے آخر تک کہانی کی گرفت سے باہر نہیں آسکتا ۔ زبان و بیان اور تجسس ( Suspence) اسے ایک خیالی دنیاء میں محو پرواز رکھتا ہے ۔

    ہم بیان کررہے تھے کہ فیض آباد کے بدمعاش دلاور خان نے ننھی امیرن کو اغواء کرکے لکھنوء میں خانم جان نام کی ایک کوٹھے والی بائی (  Dance Mistress  ) کے ہاتھ فروخت کردیا ۔ بائی خانم جان  ، چھوٹی عمر کی لڑکیوں کو رقص اور گانا بجانا سکھا کر مجرے ( Dance)

    کے لئے تیار کرتی تھی ۔ ہر شام اس کے کوٹھے پر امراء ، روساء اور نوابین مجرا دیکھنے آتے اور اس طرح وہ نئی نویلی ، سجی دھجی ، بنی سنوری  چھمک چھلیوں کو نچا کر ان کی جیبیں خالی کردیتی ۔

    بازار حسن ( Red light Areas ) کا رواج ، ضرورت اور اصول ہے کہ نائکہ ( Mistress ) ہر لڑکی کا اصل نام بدل کر اسے اسٹیج کا ایک نام دیتی ہے تاکہ اصل شناخت چھپانے کے ساتھ ساتھ ، رقاصہ کے نام میں ایک کشش اور جاذبیت پیدا ہو لھذا

    نئی آنیوالی لڑکی ” امیرن ” کو بھی اسی اصول کے تحت

    ” امراؤ جان اداء ” کا نام دیا گیا۔

    امراؤ جان جب تربیت مکمل کرکے بحیثیت رقاصہ اسٹیج پر نمودار ہوئی تو لکھنوء ہی کیا پوری ریاست اودھ میں اس کے حسن ، اداوں اور ناز و نخرے کی دھوم مچ گئی ۔ نوابین اور روساء مجرا دیکھنے آنے لگے ان ہی میں سے ایک نواب سلطان ( اداکار فاروق شیخ جس نے نواب سلطان کا کردار ادا کیا )  ، امراؤ جان  ( ریکھا ) کو دل دے بیٹھتا ہے ۔ امراو بھی اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور دونوں زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عھد کرلیتے ہیں لیکن نواب سلطان کے گھر والے اس رشتے کو نہ تسلیم کرتے ہوئے ، اس کی شادی کہیں اور    اپنے خاندان میں کردیتے ہیں جس سے امراو بہت زیادہ دلبرداشتہ ہوکر اپنے ایک اور چاہنے والے فیض علی ( راج ببر )  سے دوستی کرلیتی ہے ۔ فیض علی بھی اسے محبت اور شادی کا یقین دلاتا ہے اور  گناہ کی اس دلدل سے نکلنے کی خاطر ایک دن موقع پاکر وہ فیض علی کے ساتھ بھاگ جاتی ہے لیکن راستے میں ہی پولیس فیض علی کو گرفتار کرلیتی ہے اور اس وقت امراو کو پتا چلتا ہے کہ فیض علی تو ایک ڈاکو تھا لھذا وہ واپس لکھنوء آکر اسی دھندے پر لگ جاتی ہے ۔ یہاں یہ نقطہ قابل غور ہے کہ امراؤ جان کو حالات نے زبردستی ایک شریف گھر کی امیرن سے امراؤ بنایا تھا ۔ وہ خود اپنی مرضی سے اس پیشے میں نہیں آئی تھی اسلئے اس کے اندر کا انسان اسے ہمیشہ یہاں سے نکلنے کی ترغیب دیتا رہا لیکن وہ حالات کی زنجیروں سے جان نہ چھڑا سکی ۔

    Umrao Jaan Ada

    جب امراؤ واپس کوٹھے پر آئی تو کچھ ہی عرصہ بعد انگریزوں نے لکھنوء پر حملہ کردیا اور لوگ جان بچا کر بھاگنے لگے ۔ امراو نے بھی لکھنوء کو خیر باد کہا اور پناہ حاصل کرنےکی خاطر اتفاق سے فیض آباد کے قریب پہنچ گئی ۔ اسے معلوم نہ تھا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں سے اسے بچپن میں اغواء کیا گیا تھا ۔

    جب علاقے کے لوگوں کو علم ہوا کہ لکھنوء کی معروف رقاصہ امراؤ جان اداء یہاں آئی ہے تو انہوں نے اس سے گانے اور رقص کی فرمائیش کی ۔ قسمت کی ستم ظریفی ، املی کے اسی پیڑ کے نیچے اسے رقص کرنا پڑا جہاں سے بدمعاش دلاور خان اسے اٹھا کر لے گیا تھا ۔ گاوں کے لوگ جمع تھے ۔ امراو کی ماں نے اپنی امیرن کو پہچان لیا اور گھر لے جانا چاہا مگر اس کے بھائی نہ مانے اور اس طرح امراؤ جان ایک بار پھر سے تن تنہاء واپس لکھنوء کے بازار حسن پہنچ گئی ۔

    مرزا ہادی رسواء کی لکھی اس کہانی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دو اساتذہ ، ہدائیتکار مظفر علی اور باکمال شاعر شہریار نے , بالی وڈ کی معروف چاکلیٹی رنگت والی اداکارہ ریکھا ، اداکار فاروق شیخ اور مدھر سروں کی ملکہ آشا بھونسلے کو لیکر جب سینماء اسکرین کی زینت بنایا تو فلم بین عش عش کر اٹھے ۔

    شہر یار کی الہامی غزلوں اور مدھر گیتوں نے  آشا بھونسلے کی جادو بھری آواز اور سانولی سلونی اداکارہ ریکھا کی مستانی اداوں کے بھنور میں پھنس کر لکھنوء کے تاریخی مجروں کی یاد تاذہ کردی ۔

    مثلا یہ غزل :

    ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ھزاروں ہیں

    اسی غزل کا ایک شعر جو مجھے بہت پسند ہے ،

    اک تم ہی نہیں تنہاء الفت میں میری رسوا

    اس شھر میں تم جیسے دیوانے ھزاروں ہیں