دیوان شاکر اٹکی اصل

دیوان شاکر اٹکی اصل

مجلس نوادراتِ علمیہ اٹک ؛جس کے روح و رواں نذر صابری صاحب ہیں ؛کو اول روز سے ضلع اٹک میں نوادراتِ علمیہ کی جستجو رہی ہے ۔ اسی کوشش میں مجلس کو ۱۹۶۳ء میں گاؤں ملاں منصور،ضلع اٹک میں حضرت جی بابا کے خاندانی کتب خانے سے دو سو سال پرانا ایک قلمی نسخہ دستیاب ہوا۔یہ ایک شعری دیوان تھا جو مجلس کے توسط سے پہلی بار منظرِ عام پر آ رہا تھا؛ شاعر کا نام شاکر تھا۔’’ایک اندازے کے مطابق شاکر اٹکی کا زمانہ عالمگیر کی وفات ۱۱۱۸ء کے فوراََ بعد شروع ہوتا ہے۔وہ سر زمینِ پنجاب کے ایک مشہور بزرگ شیخ یحییٰ المعروف بہ حضرت جی بابا اٹکی(م ۱۱۳۲ھ )کا پوتا ہے۔

در بارہ جہانگیر بخاری

بانی مدیر

یہ بھی دیکھیں

نسخہ

خوشبو میں بسا نرم ہوا کا جھونکا

صدیوں کی پیاسی، سسکتی اور خزان رسیدہ زمین جسے ساون رت کا انتظار رہتا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: